لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 479
479 پیش نظر رکھیں اور ان تمام فرقوں کو مسلمان سمجھ لیں جو اسلام کے دعویدار ہیں اور جنہیں غیر مسلم مسلمان کہتے ہیں کیونکہ غیر مسلم کسی فرق و امتیاز کے بغیر تمام مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ تمام فرقوں کے حقوق کا لحاظ رکھیں اور اپنے بچوں کے لئے اس قسم کی تاریخیں لکھیں جن میں سلاطین اسلام کے متعلق صحیح واقعات پیش کئے جائیں اور انہیں معلوم ہو کہ ان کا ماضی کس قدرشاندار تھا۔۳۵ اب پڑھئے ایک غیر مسلم پر چہ کی تنقید۔اخبار ملاپ نے لکھا۔۲۔مارچ ۱۹۲۷ء کو مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ نے بریڈ لا ہال لاہور میں ”ہندو مسلم فسادات کا علاج اور مسلمانوں کے آئندہ طریق عمل کے موضوع پر جن خیالات کا اظہار کیا وہ اسی پر چہ میں آپ کسی دوسری جگہ پڑھیں گے۔یہ بچ ہے کہ مرزا صاحب کا طرز تقریر معقول اور متین تھا۔لیکن آپ نے جس طریقہ سے اپنے مضمون کو نباہا وہ مسلمانوں کے ایک سیاسی مبلغ کی حیثیت سے تھا نہ کہ ایک مذہبی امام کی حیثیت سے۔۔۔۔گوا اصولی طور پر تو مرزا صاحب نے فرقہ وارانہ نیابت کے مسئلہ کو لیاقت پر قربان کرنا ہی مناسب سمجھا۔لیکن جب آپ تقریر کے اندر تفاصیل میں داخل ہوئے تو آپ نے اس اصول کی بناء پر حمایت کی کہ پس افتادہ اور کمزور اقوام کی ترقی کے لئے یہ امر ضروری ہے لیکن یہ نہ سوچا کہ پس افتادہ اقوام کے لئے تربیت اور درسی تعلیم کی سہولتیں ہی مفید ہوسکتی ہیں۔لیکن سیاست میں پس افتادہ اقوام کے ہاتھوں عنانِ اقتدار دینا گاڑی کے پیچھے گھوڑا لگانے کے مترادف ہے۔ہم پسماندہ قوم کے بچوں کے لئے تعلیمی سہولتیں بہم پہنچانے کو تو کسی حد تک حق بجانب قرار دے سکتے ہیں۔لیکن یہ پسند نہیں کر سکتے کہ سروسز بھیسلیچر وں اور لوکل باڈیوں میں نااہل اور نیم خواندہ آدمیوں کی قسمتوں کو خراب ہوتا دیکھیں۔۔اس کے سوائے جس خطرناک پہلو پر مرزا صاحب نے مسلمانوں کو نرالی انگیخت کی۔وہ ان ہندو تجاروں اور دکانداروں کا بائیکاٹ کرنا تھا جو کہ کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرتے ہیں۔کاش مرزا صاحب اتنا تو سوچتے کہ اس طرح وہ ہند و تجاروں کا بائیکاٹ کر کے افتراق کی خلیج کو محض وسیع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں نہ کہ فساد کو روکنے کی کوئی سبیل بیان فرما رہے ہیں۔