لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 45
45 حضور کی شدید مخالفت تھی۔جہاں سے بھی آپ گزرتے آوارہ اور بداخلاق لوگ آپ پر آوازے کتے۔مگر آفرین ہے آپ پر کہ ذرا بھی ماتھے پر شکن نہ آتا۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا بیان ہے کہ : ” یہاں ( یعنی لاہور میں ) جن جن جگہوں سے آپ گذرتے وہاں کے لوگ آپ کو گالیاں دیتے اور پکار پکار کر بُرے الفاظ آپ کی شان میں زبان سے نکالتے۔میری عمر اس وقت آٹھ سال کی تھی اور میں بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ تھا۔میں اس مخالفت کی جولوگ آپ سے کرتے تھے وجہ تو نہیں سمجھ سکتا تھا۔اس لئے یہ دیکھ کر مجھے سخت تعجب آتا کہ جہاں سے آپ گزرتے ہیں لوگ آپ کے پیچھے کیوں تالیاں پیٹتے اور سیٹیاں بجاتے ہیں؟ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ایک ٹنڈ شخص جس کا ایک پونچا کٹا ہوا تھا اور بقیہ ہاتھ پر کپڑا بندھا ہوا تھا نہیں معلوم کہ ہاتھ کے کٹنے ہی کا زخم تھا یا کوئی نیا زخم تھا وہ بھی لوگوں میں شامل ہو کر غالبا مسجد وزیر خاں کی سیڑھیوں پر کھڑا تالیاں پیٹتا اور اپنا کٹا ہوا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارتا تھا اور دوسروں کے ساتھ مل کر شور مچا رہا تھا کہ ہائے۔ہائے مرزا انٹھ گیا ( یعنی میدان مقابلہ سے فرار ہو گیا ) اور میں ان الفاظ کو دیکھ کر سخت حیران تھا خصوصاً اس شخص پر اور دیر تک گاڑی سے سر نکال کر اس شخص کو دیکھتا رہا۔۲۵ لاہور شہر میں جہاں مخالفت کا یہ حال تھا وہاں سنجیدہ اور باوقار طبقہ بھی موجود تھا اور ایسے لوگ ہر مذہب وملت میں پائے جاتے ہیں۔چنانچہ وہ کثرت کے ساتھ حضرت اقدس کی مجلس میں آتے اور حضور کی پُر معارف گفتگو کوسن کر اپنی روحانی پیاس بجھاتے۔بعض لوگ سوالات بھی کرتے مگر آپ کے جوابات سن کر حیران رہ جاتے۔چنانچہ محترم چوہدری محمد اسماعیل صاحب ریٹائر ڈ ای۔اے۔سی مرحوم کا بیان ہے کہ: خاکسار عرض کرتا ہے کہ چوہدری صاحب مرحوم گو اختلاف کے بعد غیر مبائعین میں شامل ہو گئے تھے مگر حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بہت ادب و احترام کیا کرتے تھے۔قادیان میں بھی جایا کرتے تھے۔چنانچہ راقم الحروف نے خود ان کو احمد یہ چوک قادیان میں ایک مرتبہ دیکھا تھا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ عقاید مولوی محمد علی صاحب کے ٹھیک ہیں مگر دعا حضرت میاں صاحب ( مراد حضرت خلیفہ اصسیح الثانی ایدہ اللہ ) کی قبول ہوتی ہے۔