لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 44 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 44

44 سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب وہ مشہور و معروف رسالہ جس کا نام ہے " سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب“ سراج الدین بھی لاہور ہی کا تھا اور لاہور مشن کالج میں پروفیسر تھا۔یہ رسالہ حضرت اقدس علیہ السلام نے ۲۲ جون ۱۸۹۷ء کو شائع فرمایا تھا۔☆ سفر ملتان اور لاہور میں قیام۔اکتوبر ۱۸۹۷ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اوائل اکتوبر ۱۸۹۷ء میں ایک رؤیا میں دیکھا کہ آپ ایک حاکم کی عدالت میں کسی گواہی کے لئے پیش ہوئے ہیں مگر حاکم نے شہادت کے دستور کے مطابق آپ کو قتسم نہیں دی۔اس کے بعد حضور نے ۸۔اکتوبر ۱۸۹۷ء کو پھر خواب میں دیکھا کہ اس شہادت کے ضمن میں ایک سپاہی سمن لے کر آیا ہے۔۲۴ ان ایام میں حالات ایسے تھے کہ بظاہر کسی مقدمہ کا وہم و گمان بھی نہیں تھا۔مگر چند روز کے بعد ہی ایک سپاہی سمن لے کر آ گیا اور معلوم ہوا کہ مولوی رحیم بخش صاحب پرائیویٹ سیکرٹری نواب صاحب بہاولپور نے لا ہور کے اخبار ” ناظم الہند کے ایڈیٹر پر ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔اس اخبار کے ایڈیٹر سید ناظم حسین صاحب کاظمی تھے جو شیعہ تھے اور حضور کے سخت مخالف تھے۔اور جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے یہی صاحب تھے جنہوں نے ترکی قونصل حسین کا می کے سلسلہ میں حضرت اقدس کے خلاف اشتعال انگیزی کی تھی۔بایں ہمہ انہیں یہ یقین تھا کہ حضرت اقدس اپنے بلند کیریکٹر اور عالی حوصلگی کی وجہ سے شہادت کے معاملہ میں اظہار حق میں ہرگز پس و پیش نہ کریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔حضور نے اپنی بلندی اخلاق کی وجہ سے ملتان کا لمبا سفر اختیار کیا اور وہاں جا کر شہادت دی۔مگر عجیب بات ہے کہ رویا کے مطابق جب حاکم آپ سے شہادت لینے لگا تو قسم دینا بھول گیا اور یاد آنے پر قانون کا منشاء پورا کرنے کیلئے بیان کے بعد قسم دی۔واپسی پر حضور نے لاہور میں محترم جناب شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم ما لک بمبئی ہاؤس کے مکان واقعہ انارکی بالمقابل پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی میں چند دن قیام فرمایا۔لاہور میں ان دنوں ایف سی کالج مراد ہے۔