لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 46 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 46

46 حضرت شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کا دولت کدہ جو ان کی پرانی دوکان بمبئی ہاؤس کے عقب میں تھا حضرت اقدس کے نزول اجلاس کے باعث رشک جنت بنا ہوا تھا۔سردی کا موسم تھا۔ایک وسیع کمرہ کی باہر والی طاقچی میں حضرت صاحب تشریف فرما تھے۔اس وقت کے حالات کے مطابق یہ جگہ بہت غیر محفوظ تھی۔باہر سے بڑی آسانی سے حملہ ہوسکتا تھا مگر بغیر کسی محافظ کے حضرت اقدس نہایت اطمینان سے بیٹھے تھے۔خدام کے علاوہ شہر کے بہت سے معزز اشخاص وہاں موجود تھے۔کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔غیر از جماعت لوگ مختلف قسم کے اعتراض کرتے تھے اور حضرت صاحب جواب دیتے تھے۔آخر عیسائیوں کی طرف سے ایک اعتراض پیش ہوا کہ ” قرآن مجید میں جو قصے درج ہیں وہ بائیل سے لئے گئے ہیں۔معلوم نہیں یہ اعتراض کسی عیسائی نے پیش کیا یا کسی مسلمان نے کسی عیسائی کی طرف سے پیش کیا۔چونکہ مسئلہ اہم تھا اور حاضرین کی تعداد اتنی تھی کہ اگر حضرت صاحب بیٹھ کر جواب دیتے تو سب حاضرین نہ سن سکتے۔اس واسطے حضرت صاحب کھڑے ہو گئے اور ایسی معرکہ کی تقریر فرمائی کہ اپنی جماعت کے لوگ تو ایک طرف رہے دوسرے لوگ بھی عش عش کرنے لگے۔مجھے وہ سماں نہیں بھول سکتا۔جب بہت سے دلائل دے کر حضرت صاحب نے فرمایا ” غرض جس طرح گھاس پھوس اور چارہ گائے کے پیٹ میں جا کر لہو اور پھر تھنوں میں جا کر دودھ بن جاتا ہے۔اسی طرح تو راۃ اور انجیل کی کہانیاں اور داستانیں قرآن میں آ کر نور اور حکمتیں بن گئیں ، یہ سن کر ہال جزاک اللہ اور بارک اللہ کے نعروں سے گونج اٹھا۔میں جب کبھی اس طرف جاتا ہوں اور اس طاقچی کو دیکھتا ہوں تو وہ نظارہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور اس کے سامنے آنے سے جو دل پر گذرتی ہے اس کو خدا ہی جانتا ہے“۔۲۶ بشپ آف لاہور کو چیلنج لا ہور ہمیشہ مذہبی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔لاہور میں لندن کے ایک پادری صاحب جن کا نام لیفر ائے تھا اور جو بشپ کے عہدہ پر فائز ہو کر آئے تھے انہوں نے لاہور آتے ہی معصوم