لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 452
452 احمد یہ ہوٹل لاہور کا قیام - ۱۹۱۵ ء خلافت ثانیہ کے ابتدائی حالات بیان کرنے کے بعد اب ہم تاریخ وار بعض واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔سوسب سے اول احمد یہ ہوٹل لاہور کے متعلق بعض واقعات کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے۔احمد یہ ہوٹل لاہور کے مختلف کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے احمدی طلباء کی دینی تربیت کے لئے ۱۹۱۵ء کے آخر میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے حکم سے جاری کیا گیا۔پہلے اسلامیہ کالج کے پاس پچاس روپیہ ماہوار پر ایک مکان کرایہ پر لیا گیا۔لیکن اس مکان میں طلباء کو بعض تکالیف تھیں۔اس لئے عالی جناب حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ نے اور مکان لینے کی رائے دی۔چنانچہ بڑی تلاش کے بعد ایک مکان واقعہ گوالمنڈی مبلغ ستر روپیہ ماہوار کرایہ پر لیا گیا۔یہ عالیشان بلڈنگ حفظان صحت اور جائے وقوعہ کے لحاظ سے بہت عمدہ تھی۔اس ہوٹل کے سپرنٹنڈنٹ کے فرائض کی بجا آوری کا کام محترم با بو عبد الحمید صاحب سیکرٹری انجمن احمد یہ لا ہور کے سپر د کیا گیا۔اس وقت ہوٹل میں کل پندرہ طالب علم تھے جو لاہور کے مختلف کالجوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔درس تدریس کا کام حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کے سپر دتھا۔حضرت خلیفۃ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ بھی جب کبھی لاہور میں تشریف لاتے تو طلبہ کی روحانی تربیت کے لئے ہوٹل ہی میں قیام فرماتے۔محترم جناب چوہدری اسد اللہ خاں صاحب امیر جماعت احمد یہ لا ہور کا بیان ہے کہ جن ایام میں ہوسٹل گوالمنڈی کے مکان میں تھا۔ان ایام میں کچھ عرصہ کے لئے جناب مولوی عبدالرحیم صاحب درد نے بھی سپر نٹنڈنٹ ہوسٹل کے فرائض سرانجام دیئے تھے۔آپ عربی ایم۔اے کا امتحان دینے کے لئے لاہور تشریف لائے تھے۔ان دنوں آپ کا نام رحیم بخش‘ تھا۔جسے کچھ عرصہ کے بعد حضرت امیرالمومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بدل کر ” عبدالرحیم “ رکھ دیا تھا۔اس کے بعد کچا نسبت روڈ پر ایک کوٹھی کرایہ پر لی گئی۔اس کو ٹھی میں ۱۹۲۵ ء تک ہوسٹل رہا۔سپر نٹنڈنٹ محترم سید دلاور شاہ صاحب تھے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب امیر جماعت تھے اور ان کی کوٹھی کچا نسبت روڈ پر مجیٹھ ہاؤس کے نام سے مشہور تھی۔آج کل وہاں دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری ہے۔ان