لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 453
453 ایام کے مشہور طالب علم یہ تھے۔ملک غلام فرید صاحب ایم۔ائے شیخ یوسف علی صاحب مرحوم پرائیوٹ سیکرٹری، مرزا عبدالحق صاحب صوبائی امیر میاں عطاء اللہ صاحب سابق امیر راولپنڈی، چوہدری غلام احمد صاحب ایم۔اے مرحوم صوفی غلام محمد صاحب ناظر بیت المال، صوفی محمد ابراہیم صاحب ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول شیخ محمد احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ لائکپور، شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ سابق حج ہائی کورٹ ڈاکٹر خلیفہ تقی الدین صاحب سید عبدالرزاق شاہ صاحب چوہدری محمد اسد اللہ خاں صاحب بارایٹ لاء خود چوہدری محمد شریف صاحب امیر جماعت احمد یہ منٹگمری، ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب رانجھا، چوہدری رشید احمد صاحب ڈپٹی انسپکٹر مدارس ملتان، ڈاکٹر کرنل عطاء اللہ صاحب ڈاکٹر سید عنایت اللہ شاہ صاحب ڈاکٹر لال دین صاحب، چوہدری حاکم دین صاحب ایڈووکیٹ اخوند عبدالقادر صاحب ایم۔اے مرحوم سید محموداللہ شاہ صاحب مرحوم سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول سید عزیز اللہ شاہ صاحب۔۱۹۲۵ء میں ہوٹل ۳۶۔ایمپریس روڈ پر چلا گیا۔وہاں سپرنٹنڈنٹ شیخ یوسف علی صاحب مرحوم تھے۔محترم ماسٹر نذیر احمد خاں اور ڈاکٹر غلام مصطفے صاحب بھی وہاں کچھ عرصہ سپرنٹنڈنٹ رہے۔اس زمانہ کے مشہور طلباء کے نام یہ ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفة مسح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ العزیز) حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب سیکرٹری وزارت مال پاکستان حضرت صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب چیف میڈیکل آفیسر فضل عمر ہسپتال ربوہ محترم ملک عبد الرحمن صاحب خادم مرحوم ملک کرم الہی صاحب ایڈووکیٹ کوئٹہ سید ظہور احمد شاہ صاحب ڈاکٹر عبدالحق صاحب سول سرجن۔اس کے بعد ہوٹل کو ٹھی الفیض، لٹن روڈ میں چلا گیا۔وہاں سپرنٹنڈنٹ شیخ فضل کریم صاحب پراچہ تھے۔دوسال کے بعد وہاں سے ہوٹل پھر ایمپریس روڈ منتقل ہو گیا۔یہاں بھی دو سال کے قریب ہوٹل رہا۔اس جگہ سپر نٹنڈنٹ سید غلام مصطفیٰ صاحب تھے۔مشہور طلباء میں سے صرف چوہدری محمد انور حسین صاحب امیر جماعت شیخو پورہ کا نام یاد ہے۔آخر میں ہوٹل ڈیوس روڈ پر چلا گیا۔اس کوٹھی میں جو میو گارڈن کے متصل ہے اور جسے بعد میں محترم مولوی رحمت علی صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا نے الاٹ کروالیا اور جہاں آج کل محترم مولوی صاحب کے صاحبزادگان مقیم ہیں۔