لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 444
444 بن سکتے اور جب تک وہ ہر دلعزیز نہ بنیں لوگ ان کی جماعت میں داخل نہیں ہوں گے لیکن نتیجہ الٹ نکلا۔غیر احمد یوں نے الٹا انہیں منافق قرار دے دیا اور ان کی جماعت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔مگر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ مبائعین کی جماعت نے غیر مبائعین کے خطرناک اور زہر یلے پرا پیگنڈا کے باوجود حیرت انگیز ترقی کی۔الحمدللہ علی ذالک مولوی صاحب کا یہ لکھنا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجمن کو اپنا جانشین قرار دیا اور اس کے فیصلوں کو قطعی قرار دیا، اس کے ہم بھی منکر نہیں۔ہم انجمن کو حضرت اقدس کا جانشین سمجھتے ہیں۔مگر انہی معنوں میں میں جن حضرت اقدس سمجھتے تھے یعنی جو کام حضور کی زندگی میں اس کے سپرد کیا گیا تھا یعنی سلسلہ کے اموال کی حفاظت اور اس کا مناسب رنگ میں خرچ کرنا اس پر ہم آج بھی عمل کر رہے ہیں۔ہمارے ہاں ایک صدرا انجمن موجود ہے جو یہ کام کر رہی ہے اور جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں انجمن حضور کے سامنے جواب دہ تھی اس طرح حضرت خلیفہ المسیح کے سامنے جوابدہ ہے۔باقی رہی یہ بات کہ جس شخص پر چالیس آدمی اتفاق کریں اسے حضور کے فیصلہ کے مطابق دوسروں سے بیعت لینے کا حق حاصل ہو جاتا ہے اس حق کو تفویض کرنا بھی خلیفہ وقت کے اختیار میں ہے حضرت خلیفہ اسی جب ضروری سمجھتے ہیں مرکز سلسلہ میں نہ پہنچ سکنے والے احباب کی بیعت لینے کا اپنے بعض مخلص مریدوں کو اختیار دے دیتے ہیں۔مسئلہ کفر و اسلام اور بعض دوسرے مسائل کے متعلق ہم پیچھے حضرت خلیفہ امسیح الاول کی ایک معرکة الآراء تقریر درج کر چکے ہیں۔غالباً اس تقریر کے سامعین میں جناب مولوی محمد علی صاحب بھی موجود ہوں گے کیونکہ وہ خاص احمد یہ بلڈنگس میں مولوی صاحب اور ان کے رفقاء کو راہ راست پر لانے کے لئے کی گئی تھی۔اور اگر موجود نہیں تھے تو انہوں نے یقیناً اس تقریر کو بڑے غور سے پڑھا ہوگا۔اس تقریر میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے ان لوگوں کو یہ نصیحت بھی فرمائی تھی کہ سنو! تمہاری نزا میں تین قسم کی ہیں۔اوّل ان اور اور مسائل کے متعلق جن کا فیصلہ حضرت صاحب نے کر دیا ہے۔جو حضرت صاحب کے فیصلہ کے خلاف کرتا ہے وہ احمدی نہیں۔جن پر حضرت صاحب نے گفتگو نہیں کی ان پر بولنے کا تمہیں خود کوئی حق نہیں جب تک