لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 445
445 ہمارے دربار سے تمہیں اجازت نہ ملے۔پس جب تک خلیفہ نہیں بولتا یا خلیفہ کا خلیفہ دنیا میں نہیں آتا ان پر رائے زنی نہ کرو۔جن پر ہمارے امام اور مقتدا ء نے قلم نہیں اٹھایا۔تم ان پر جرأت نہ کرو ورنہ تمہاری تحریریں اور کا غذر دی کر دیں گے۔“ اس نصیحت میں واضح طور پر یہ بیان کر دیا گیا ہے کہ مسائل کا فیصلہ یا تو حضرت مسیح موعوڈ کر سکتے تھے اور یا حضور کے خلفاء جماعت کے باقی افراد کو ہرگز یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مسائل کے بارہ میں از خود کوئی فیصلہ کرنے کی جسارت کریں اور جو کوئی ایسا کرے گا اس کا فیصلہ ردی کاغذ کی طرح رد کر دیا جائے گا۔حیرت ہے کہ اس وضاحت کے باوجود غیر مبائعین نے غیروں میں ہر دلعزیز بننے کے لئے جماعت احمدیہ کے مخصوص مسائل کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیا اور یہ تمنا کرنے لگے کہ اب لوگ دیوانہ وار ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں گے مگر خود غلط بود آنچه ما پنداشتیم ! یہ سکیم ان کی اس بری طرح فیل ہوئی کہ باید وشاید۔غرض مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی زندگی میں حضور کی اغراض و مقاصد اور وصیت کے سراسر خلاف ایک مضمون شائع کر کے محفوظ کر لیا تھا اور انتظار کر رہے تھے کہ کب حضور کا وصال ہو اور وہ جماعت کے شیرازہ کو بکھیرنے کے لئے کوششیں شروع کر دیں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ، ہی کیا۔جونہی حضرت کا وصال ہوا۔انہوں نے احمد یہ بلڈ نگکس لاہور سے شائع شدہ ٹریکٹ لے کر جماعتوں کو بھجوانا شروع کر دیا۔جو احمدی جنازہ میں شامل ہونے کے لئے قادیان کو روانہ ہورہے تھے ان میں لا ہورڑ امرتسر اور بٹالہ کے اسٹیشنوں پر تقسیم کروانا شروع کر دیا۔مگر با وجود اس کے جب قادیان میں انتخاب خلیفہ کا سوال پیدا ہوا تو نوے فیصدی احباب نے یہ رائے دی کہ خلیفہ کا انتخاب فوراً ہونا چاہیئے اور یہ کہ اختیارات کے لحاظ سے بھی اس کی پوزیشن وہی ہونی چاہیئے جو حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی تھی اور اس طرح جناب مولوی محمد علی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اس ناپاک منصوبہ میں بھی خطرناک شکست دی اور قادیان میں موجود جماعت کی بھاری اکثریت کے ساتھ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا انتخاب بطور خلیفتہ المسیح عمل میں آ گیا۔