لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 432
432 جانتا ہوں کہ وہ میرا سچا فرمانبرادر ہے اور ایسا فرمانبردار کہ تم میں سے ایک بھی نہیں۔جس طرح پر علی ، فاطمہ ، عباس نے ابوبکر کی بیعت کی تھی۔اس سے بھی بڑھ کر مرزا صاحب کے خاندان نے میری فرمانبرداری کی ہے اور ایک ایک ان میں سے مجھ پر ایسا فدا ہے کہ مجھے کبھی و ہم بھی نہیں آ سکتا کہ میرے متعلق انہیں کوئی وہم آتا ہو۔سنو! میرے دل میں کبھی یہ غرض نہ تھی کہ میں خلیفہ بنتا۔میں جب مرزا صاحب کا مرید نہ تھا۔تب بھی میرا یہی لباس تھا۔میں امراء کے پاس گیا اور معزز حیثیت میں گیا مگر تب بھی یہی لباس تھا۔مرید ہو کر بھی اسی حالت میں رہا۔مرزا صاحب کی وفات کے بعد جو کچھ کیا خدا تعالیٰ نے کیا۔میرے وہم و خیال میں بھی یہ بات نہ تھی مگر خدا تعالیٰ کی مشیت نے چاہا اور اپنے مصالح سے چاہا۔مجھے تمہارا امام وخلیفہ بنا دیا اور جو تمہارے خیال میں حقدار تھے ان کو بھی میرے سامنے جھکا دیا۔اب تم اعتراض کرنے والے کون ہو۔اگر اعتراض ہے تو جاؤ خدا پر اعتراض کرو۔مگر اس گستاخی اور بے ادبی کے وبال سے بھی آگاہ رہو۔۔۔میں کسی کا خوشامدی نہیں۔مجھے کسی کے سلام کی بھی ضرورت نہیں اور نہ تمہاری نذور اور پرورش کا محتاج ہوں۔خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ ایسا وہم بھی دل میں گذرے۔اللہ تعالیٰ نے مخفی در مخفی خزانہ مجھے دیا ہے۔کوئی انسان اور بندہ اس سے واقف نہیں۔میری بیوی اور بچے تم میں سے کسی کے محتاج نہیں۔اللہ تعالیٰ آپ ان کا کفیل ہے۔تم کسی کی کیا کفالت کرو گے۔واللہ الغنی وانتم الفقراء جو سنتا ہے وہ سن لے اور خوب سن لے اور جو نہیں سنتا اس کو سننے والے پہنچا دیں۔کہ یہ اعتراض کرنا کہ خلافت حق دار کو نہیں پہنچی۔رافضیوں کا عقیدہ ہے اس سے تو بہ کرلو۔اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے جس کو حقدار سمجھا خلیفہ بنا دیا۔جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ جھوٹا اور فاسق ہے۔فرشتے بن کر اطاعت اور فرماں برداری کرو۔ابلیس نہ بنو۔مسئلہ اکفار : ” دوسرا مسئلہ جس پر اختلاف ہوتا ہے وہ اکفار کا مسئلہ ہے۔اپنے مخالفوں کو کیا سمجھنا چاہیئے ؟ اس مسئلہ کے متعلق تم آپس میں جھگڑتے ہو۔سنو!