لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 433 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 433

433 ” ہر نبی کے زمانے میں لوگوں کے کفر اور ایمان کے اصول کلام الہی میں موجود ہیں۔جب کوئی نبی آیا۔اس کے ماننے اور نہ ماننے والوں کے متعلق کیا دقت رہ جاتی ہے؟ ایچا پیچی کرنی اور بات ہے ورنہ اللہ تعالیٰ نے کفر ایمان اور شرک کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔پہلے نبی آتے رہے۔ان کے وقت میں دو ہی قو میں تھیں۔ماننے والے اور نہ ماننے والے۔کیا ان کے متعلق کوئی شبہ تمہیں پیدا ہوا ؟ اور کوئی سوال اٹھا کہ نہ مانے والوں کو کیا کہیں ؟ ” جیسا کہ ابھی میں نے کہا یہ رفض کا شبہ ہے جو خلافت کی بحث تم چھیڑتے ہو۔یہ تو خدا سے شکوہ کرنا چاہئے کہ بھیرہ کا رہنے والا خلیفہ ہو گیا۔کوئی کہتا ہے خلیفہ کرتا ہی کیا ہے؟ لڑکوں کو پڑھاتا ہے کوئی کہتا ہے کتابوں کا عشق ہے اس میں مبتلا رہتا ہے۔ہزار نالائقیاں مجھ پر تھو پو مجھ پر نہیں یہ خدا پر لگیں گی جس نے مجھے خلیفہ بنایا۔یہ لوگ ایسے ہی ہیں جیسے رافضی ہیں جوا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر اعتراض کرتے ہیں۔وو غرض کفر و ایمان کے اصول تم کو بتا دیئے گئے ہیں۔حضرت صاحب خدا کے مرسل ہیں۔اگر وہ نبی کا لفظ اپنی نسبت نہ بولتے تو بخاری کی حدیث کونعوذ باللہ غلط قرار دیتے جس میں آنے والے کا نام نبی رکھا ہے۔پس وہ نبی کا لفظ بولنے پر مجبور ہیں۔اب ان کے ماننے اور نہ ماننے کا مسئلہ صاف ہے۔عربی بولی میں کفرا نکا رہی کو کہتے ہیں۔ایک شخص اسلام کو مانتا ہے۔اس حصہ میں اس کو اپنا قریبی سمجھ لو جس طرح یہود کے مقابلہ میں عیسائیوں کو قریبی سمجھتے ہو۔اسی طرح پر یہ مرزا صاحب کا انکار کر کے ہمارے قریبی ہو سکتے ہیں اور پھر مرزا صاحب کے بعد میرا انکار ایسا ہی ہے جیسے رافضی صحابہ کا کرتے ہیں۔ایسا صاف مسئلہ ہے مگر نکھے لوگ اس میں بھی جھگڑتے رہتے ہیں۔نکھے لوگ ہیں اور کام نہیں۔ایسی باتوں میں لگے رہتے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو قلعے فتح کرتے ہیں اور ایک یہ ہیں۔بخاری کا لفظ سہو کتابت ہے مراد مسلم“ ہے۔حضرت خلیفہ اول خود فرماتے ہیں: تمام مجدودں میں سے نبی اللہ صرف آپ ہی کے لئے احادیث میں آیا ہے۔دیکھو مسلم۔۔۔غرض آپ کی شان بہت اعلیٰ ہے اور آپ پر ایمان لانے کے سوا نجات نہیں“۔( الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ صفحه۲ ۱۹۱۲ء۔مؤلف )