لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 424 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 424

424 کہلاتے تھے خاکسار کو لکھا کہ گرمیوں کی رخصتوں میں محترم قاضی محمد نذیر صاحب لائکپوری کے ساتھ اضلاع شیخو پورہ اور لائل پور کا دورہ کرو۔حضرت قاضی صاحب کی چٹھی بھی ملی جس میں لکھا تھا کہ فلاں تاریخ کو میں تمہیں شاہدرہ اسٹیشن پر ملوں گا۔خاکسار مقررہ وقت پر شاہدرہ اسٹیشن پر پہنچ گیا۔مگر حضرت قاضی صاحب وہاں نہ ملے۔رات اسٹیشن پر گزار کر اگلے روز صبح چار بجے خاکسار مسجد احمد یہ دہلی دروازہ پہنچا۔ابھی مسجد سے باہر ہی تھا کہ حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکٹی کی آواز سنائی دی۔آپ کو شدید بخار تھا اور شدت درد سے کراہ رہے تھے۔خاکسار نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر حالات دریافت کئے۔فرمایا۔ایک ہفتہ سے لگا تار بخار ہے اور ایک لحظہ کے لئے بھی نہیں اترا۔رات ایک دوست دو غیر احمدی حضرات کو ہمراہ لائے تھے۔میں نے سوچا کہ انہیں سمجھانے کے لئے خوب زور سے تقریر کرتا ہوں پسینہ آ کر بخار اتر جائے گا۔چنانچہ اس وقت تو ایک گھنٹہ کی تقریر کے بعد پسینہ آنے پر بخارا اتر گیا مگر اب اس کا رد عمل ہے۔خاکسار نے عرض کی کہ حضرت مولوی صاحب! آپ رخصت لے کر قادیان کیوں نہیں چلے جاتے؟ فرمایا۔میں یہاں جہاد میں ہوں۔اگر مر گیا تو جہاد میں مروں گا۔دوسری بات یہ ہے کہ میں نے عمر بھر چھٹی کبھی نہیں لی۔اور نہ اب لوں گا۔اس مختصر سی گفتگو کے بعد خاکسار محترم جناب قاضی صاحب کے ساتھ نارنگ منڈی کی طرف دورہ پر چلا گیا۔ایک ہفتہ کے بعد جب واپس لا ہور بہنچا تو دو پہر کا وقت تھا اور آپ محراب کے نزدیک بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔دریافت کرنے پر فرمایا کہ بخار بدستور ہے۔ابھی خاکسار بیٹھا ہی تھا کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ کسی پیو گے یا چائے خاکسار نے عرض کیا کہ ابھی چائے پی کر آیا ہوں اور چائے کے بعد لسی پینا بھی درست نہیں۔آپ نے اپنے سرہانے کے نیچے سے ایک رومال نکالا جس میں ایک اٹھنی بندھی تھی اسے خاکسار کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لے لو۔جب بھی ضرورت ہو خواہ چائے پی لینا خواہ کسی اور فرمایا کہ اس وقت میرے پاس صرف یہی ایک اٹھنی ہے اگر زیادہ رقم ہوتی تو زیادہ پیش کر دیتا۔خاکسار نے عرض کی کہ حضرت! آپ کے پاس صرف ایک اٹھنی ہے اسے اپنے پاس ہی رکھیئے اس حالت میں کوئی فوری ضرورت پیش آ سکتی ہے۔فرمایا کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ اٹھنی ہمیشہ میری ضروریات کو پورا کرتی رہے گی۔یہ تھوڑی دیر میں خرچ ہو جائے گی تو کیا میرا رازق خدا جو مجھے اس کے بعد دے گا اب نہیں دے سکتا ؟ یہ ایمان افروز جواب سن کر خاکسار نے وہ اٹھنی لے لی۔