لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 423 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 423

423 حضرت مولوی غلام رسول صاحب نے خلافت ثانیہ میں بھی تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد ایک لمبا زمانہ لاہور میں گزارا۔قیام لاہور کے دوران آپ کو متعدد ایسے واقعات پیش آئے جن سے آپ کے ایمان اطاعت امام اور تو کل علی الہ کا پتہ چلتا ہے۔آپ خلافت ثانیہ کے ابتدائی ایام کا ایک واقعہ یوں بیان فرمایا کرتے تھے کہ ابھی آپ کی شادی کو تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا تار آپ کو ملا کہ ایک ہفتہ کیلئے آپ فلاں ریاست ( کپورتھلہ یا پٹیالہ کا نام لیا کرتے تھے۔صحیح نام یاد نہیں رہا۔مؤلف ) میں چلے جائیں۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ " میں مسجد سے اٹھ کر گھر گیا اور بیوی کو جا کر کہا کہ حضرت صاحب کا حکم آ گیا ہے کہ ایک ہفتہ کیلئے ریاست میں چلے جاؤ لہذا میں جا رہا ہوں۔بیوی نے کہا کہ آپ جانتے ہیں۔نہ گھر میں آتا ہے نہ گھی اور نہ لکڑیاں۔علاوہ ازیں میں اکیلی یہاں رہ بھی کیسے سکتی ہوں؟“ آپ فرمایا کرتے تھے : ” میں نے اسے کہا کہ میں کوئی تمہارا ٹھیکیدار نہیں ہوں۔واقف زندگی ہوں۔جب بھی حضرت صاحب کا حکم کہیں جانے کے متعلق آئے گا۔میں سب کام چھوڑ چھاڑ کر حضور کے حکم کی تعمیل کروں گا اور تمہیں خدا کے حوالے کروں گا۔“ یہ کہہ کر آپ گھر سے چل پڑے۔ابھی مسجد کی گلی میں ہی تھے کہ ایک احمدی ملا جس کے ساتھ ایک مزدور نے ایک من کے قریب آٹا اور کچھ لکڑیاں اٹھائی ہوئی تھیں۔اس نے آپ کو کہا کہ مولوی صاحب! میں نے سنا ہے آپ کو لاہور سے باہر جانے کا حکم آگیا ہے۔ممکن ہے گھر میں آٹا اور لکڑیاں نہ ہوں۔آپ یہ چیزیں گھر میں رکھوا کر سفر پر جائیں۔چنانچہ آپ نے یہ دونوں چیزیں گھر میں رکھوا لیں۔جب اسٹیشن پر پہنچے تو ریل گاڑی کے جس ڈبے پر آپ سوار ہونے لگے۔اسی میں سے آپ کے نسبتی بھائی اترے جن کے ہاتھ میں ایک چھوٹا ٹین گھی کا تھا۔انہوں نے کہا کہ بھائی صاحب! میں ایک ہفتہ کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں۔آپ نے فرمایا۔میں ایک ہفتہ کے لئے حضرت صاحب کے حکم سے باہر جارہا ہوں اس عرصہ میں آپ کی ہمشیرہ اکیلی تھی۔لہذا خدا نے ہی آپ کو بھیجا ہے۔۲ انداز ۱۹۴۲ ء کی بات ہے خاکساران ایام میں اضلاع لائل پور سرگودھا، جھنگ اور شیخوپورہ میں بحیثیت مبلغ متعین تھا۔جناب ناظر صاحب اصلاح وارشاد نے جوان دنوں ناظر دعوت و تبلیغ