لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 412
412 فزد) میرا خدا اس نعمت کو ہماری آئندہ نسلوں کے لئے بھی مختص اور دائمی کر دے۔آمین صحت کا انحطاط ۱۹۴۷ء میں جہاں دوسرے زخم لگے حضرت ابا جان سے اپنا مخصوص حلقہ تبلیغ بھی چھٹ گیا۔اس پر دوسر استم یہ ہوا کہ ان کا درویش مزاج ادھر کی افراتفریوں میں ایک لحظہ کے لئے بھی نہ کھپ سکا۔طبیعت کا یہی ملال اور گھٹن ۱۹۵۵ء کے اواخر میں انحطاط صحت کی صورت میں نمودار ہونے شروع ہوئے۔ذیا بیطس صحت کی چمک دمک کو دیمک بن کر چپک گئی اور رفتہ رفتہ قدرعنا کی ہر جولانی کو چاٹ گئی۔لیکن دینی معلومات میں اب بھی کوئی کمی نہ تھی۔اور ہم بھی دنیا و مافیہا سے بے نیاز ان کی مضبوط اور بابرکت دعاؤں کی ڈھال کے سہارے زندگی کے معمولات و مشاغل کو حسب سابق نباہتے چلے جا رہے تھے کہ دسمبر ۱۹۶۲ء میں ان مستقل عارضوں میں ذات الجنب کا اضافہ ہو گیا جس کے باعث میں بمشکل ۱۹۶۲ء کے جلسہ سالانہ میں صرف ایک دن کے لئے حاضری دے سکا اور عزیزی محمد بشیر سلمہ کو ان کی خدمت میں رہنے کے باعث پورے جلسے ہی کی قربانی دینی پڑی۔یہ پہلا رمضان تھا کہ آپ نقاہت واضحاط صحت کے باعث روزے نہ رکھ سکے۔لہذا فدیہ ادا کیا گیا اور اب تو چند ہفتوں سے گفتگو کا بھی یہ رنگ اور انداز تھا کہ اس سے فراق دائگی کی کرب آفریں پیش خبریاں صاف پڑھی جا سکتی تھیں۔یہاں تک کہ ۲۱۔مارچ ۱۹۶۳ء کو اپنی رہائش گاہ ۳۰ ٹیمپل روڈ لاہور میں علی اصبح ( تہجد کے وقت ) تین بجگر پچیس منٹ پر حضرت مسیح موعود کا یہ وارفتہ و شیفتہ خادم ہمیں ملال ویاس میں گم سم چھوڑ کر اپنے حبیب و مقتدا کی جانب پرواز کر گیا۔وہ درویش و محبوب باپ جس نے تمام عمر اپنے بیٹوں کے لئے اپنے سے بھی کہیں زیادہ دینی و دنیوی عزت وسربلندی کی دعائیں مانگیں۔نزع کی کیفیت صرف چند ثانیوں کے لئے ہی طاری رہی۔اتنے مختصر ترین عرصہ کے لئے کہ ہم اپنے سے پندرہ ہمیں قدم پر رہنے والی ہمشیرہ (عزیزہ حفیظہ سلمہا ) کو بھی نہ بلوا سکے۔بس جسم کے بالائی حصے میں خفیف سے تناؤ کے ساتھ ایک معمولی سی ہچکی لی اور پھر دولمبے