لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 413
413 سانس اور کلمہ طیبہ کے ورد کے دوران ہی مسیح موعود کی یہ نشانی ( جو ہمارے لئے لا ریب ان گنت برکتوں اور سعادتوں کا خزانہ تھی ) داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اپنے رفیق اعلیٰ کے حضور پہنچ گئی۔انا للہ وانا اليه راجعون۔یا اللہ رحم ! حضرت ابا جان کے سفر آخرت کا ذکر نوک خامہ پر کیا آیا زندگی کی کایا پلٹ جانے کا نقشہ نگاہوں میں گھوم گیا۔اپنی رستی بستی دنیا کے متزلزل ہو جانے کا کر بناک نظارہ ایک بار پھر یاد آ گیا۔ان کی دعاؤں سے محرومی اور مسلسل محرومی کا تصور پیازی اشک بن بن کر دامن کوتر کرنے لگا۔زہے نصیب یہ اشک ؎ آنکھوں کو پھر یہ اشک بھی شاید نہ ہوں نصیب رو رو کے تجھ کو وقت سفر دیکھتے تو ہیں اور اب آگے لکھنے کا یارا نہیں۔لہذا باقی پھر کبھی۔۔مبادا ضبط کے ٹانکے ٹوٹ جائیں۔صبر کا پیمانہ چھلک اٹھے۔احساس کے سوتے پھوٹ بہیں اور دل اشک بن بن کر آنکھوں کے روزنوں سے رسنا اور بہنا شروع ہو جائے۔الحمد للہ کہ حضرت ابا جان کی قیمتی امانت اور اللہ تعالیٰ کی بیش بہا نعمت ( حضرت والدہ محترمه عزیز بیگم صاحبہ کے محبت نواز وجود کے روپ میں ) ہمارے سروں پر موجود ہے۔گویا وفور یاس میں حصول تسکین کی ایک آماہ جگاہ میسر ہے۔ثم الحمد لله اللہ تعالیٰ میرے ابا جان کو اپنے قرب خاص سے نوازے۔کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی بیش از بیش خدمات سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔اولاد : مص ثاقب زیروی مدیر ہفتہ وار لاہور ۲۔محمد بشیر (انسپکٹر کواپریٹیو سوسائیٹیز ) ۳۔حفیظہ بیگم (اہلیہ چوہدری نیاز نیاز الدین احمد سلہری ) حضرت حکیم مرزا فیض احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی حضرت حکیم مرزا فیض احمد صاحب کی وفات کا ذکر