لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 390
390 پہنچانے کی تڑپ۔مولوی صاحب کی روحانیت حقیقتا ایک نہایت ہی ارفع اور بلند مقام کی روحانیت تھی جسے ایک طرف خدا تعالیٰ کے ساتھ انتہائی اتصال حاصل تھا اور دوسری طرف مخلوق خدا کی ہمدردی اس کا جز واعظم تھی۔حضرت مولوی شیر علی صاحب قادیان میں غالباً ۱۸۹۷ء میں آئے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات تک مختلف خدمات پر مامور رہے۔شروع میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کی ہیڈ ماسٹری کے فرائض سرانجام دیئے اور اس خوبی سے سرانجام دیئے کہ حضرت مولوی صاحب کا ہر شاگرد گویا آپ کا عاشق زار تھا۔کیونکہ ان کے وجود میں طلباء کو نہ صرف ایک قابل ترین استادمل گیا تھا بلکہ شفیق ترین باپ بھی میسر آ گیا تھا۔میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ان کے شاگرد جن میں یہ خاکسار بھی شامل ہے بسا اوقات ان کے ذکر سے قلوب میں رقت اور آنکھوں میں آنسو محسوس کرتے ہیں۔سکول کی ملازمت کے بعد حضرت مولوی صاحب ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے ہاتھ سے بعض ایسے مضامین نکلے جو سلسلہ کے لٹریچر میں خاص شان رکھتے ہیں جسے بعض غیر احمد یوں نے اس کی خوبیوں اور دلائل سے متاثر ہو کر اپنی طرف سے کتابی صورت میں شائع کرایا تھا۔حضرت مولوی صاحب کی تصنیفات کے سلسلہ میں قتل مرتد اور اسلام کا رسالہ بھی خاص شان رکھتا ہے۔حضرت مولوی صاحب کی زندگی کا تیسرا دور وہ ہے جب کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ارشاد کے ماتحت وہ قرآن مجید کے انگریزی ترجمہ و تفسیر کے لئے مقرر کئے گئے اور اس غرض کے لئے انہیں انگلستان بھجوایا گیا۔اور بالآخر یہ کام قادیان میں واپس آکر تکمیل کو پہنچا۔قادیان کے زمانہ میں حضرت مولوی صاحب کی امداد کے لئے ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے اور مولوی عبد الرحیم صاحب در دایم۔اے اور خاں بہادر چوہدری ابوالہاشم خاں صاحب ایم۔اے اور خاکسار مقرر تھے۔ان ایام میں حضرت مولوی صاحب با وجود پیرانہ سالی کے جس قدر محنت اور شغف اور توجہ کے ساتھ قرآن مجید کا کام کرتے تھے وہ ہم سب کے لئے ایک مشعل راہ ہے۔