لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 391
391 انگریزی زبان میں حضرت مولوی صاحب کا مقام بہت بلند تھا اور نہایت صاف اور صحیح اور بامحاورہ انگریزی لکھتے تھے جس کی سلاست اور صحت پر رشک آتا تھا۔” حضرت مولوی صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سے حالات زندگی معلوم تھے۔چنانچہ ان کی بہت سی قیمتی روایات میری تصنیف ”سیرۃ المہدی“ میں درج ہیں۔اور ہر روایت علم وعرفان اور تصوف کا غیر معمولی اثر لئے ہوئے ہے۔- " حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ جب بھی قادیان سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو بالعموم حضرت مولوی صاحب کو ہی اپنی جگہ امیر مقرر فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ ۱۹۲۴ء کے سفر یورپ میں بھی حضرت مولوی صاحب ہی امیر مقرر ہوئے تھے اور گوشروع میں حضرت مولوی صاحب کو تقریر کرنے میں کچھ حجاب محسوس ہوتا تھا لیکن بعد میں یہ حجاب دور ہو کر ان کی تقریروں میں سلاست کا رنگ پیدا ہو گیا تھا اور ان کے خطبات اپنے اندر خاص جذب اور تاثر رکھتے تھے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولوی شیر علی صاحب کی روح پر اپنے بے شمار فضل اور رحمت کی بارش برسائے۔ان کی روحانی تاثیرات کا سلسلہ جماعت میں جاری رکھے۔جماعت کے نوجوانوں کو ان کی نیک صفات کا وارث بنائے اور ان کی اولاد کا دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو۔آمین یا ارحم الراحمين۔فقط خاکسار مرزا بشیر احمد۔ربوہ ۱۸_۱۰_۵۵ حضرت مولوی صاحب کی جب وفات ہوئی تو ان ایام میں ابھی دارالہجرت ربوہ کی تعمیر نہیں ہوئی تھی۔اس لئے آپ کو لاہور ہی میں میانی صاحب کے قبرستان میں امانتا دفن کیا گیا۔بعد ازاں جب ربوہ کا بہشتی مقبرہ تیار ہو گیا تو پھر آپ کی نعش مبارک کور بوہ میں منتقل کر دیا گیا۔ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ آج کل آپ کی لاہور والی قبر میں محترم میاں کمال الدین صاحب مدفون اولاد: ڈاکٹر عبدالرحمن رانجھا۔خدیجہ بیگم۔مولوی عبدالرحیم صاحب۔امۃ الرحمن۔حافظ عبد اللطیف۔