لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 383
383 بی۔اے پاس کرنے کے بعد ابھی آپ قادیان ہی میں مقیم تھے کہ آپ کی قابلیت اور غیر معمولی ذہانت کی بناء پر آپ کو نجی کی پیشکش کی گئی۔مگر آپ نے اس پیشکش کو ٹھکرادیا اور مہدی آخر الزمان علیہ السلام کے قدموں میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔آپ کا حلیہ اور لباس قد چھ فٹ سے زیادہ رنگ گندمی، آنکھیں سیاہ چمکدار اور بڑی بڑی چہرہ خوبصورت اور مسنون داڑھی سے مزین جس پر روحانی اثر ہمیشہ غالب رہتا تھا، ماتھے پر اثر السجود کا نمایاں اثر پایا جاتا تھا۔مرحوم مجسم حیا تھے۔لباس بالکل سادہ پہنتے تھے۔سر پر عموماً سفید عمامہ ہوتا تھا۔تن پر سادہ قیمص‘ ڈھیلا ڈھالا کوٹ، ملکی شلوار جو ٹخنوں سے اوپر رہتی تھی۔سردی کے موسم میں دود و قمیصیں بھی زیب تن فرمالیا کرتے تھے۔تکلف کو قریب نہیں پھٹکنے دیتے تھے۔پاؤں میں اکثر دیسی جوتا ہوتا تھا۔آخری عمر میں جسم کافی فربہ ہو گیا تھا۔مگر نہ اتنا کہ چلنا پھرنا دوبھر ہو۔آپ کی سادگی آپ کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ انگریزی کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ساری عمر دیسی جوتا پہنا۔لباس میں بھی سادگی آپ کا طرہ امتیاز رہا۔عموماً گھر کے دھلے ہوئے کپڑے زیب تن فرماتے۔استری شدہ کپڑے بھی پہن لیتے تھے مگر عموماً کپڑوں کو اس طرح پکڑتے کہ ان میں شکنیں پڑ جاتیں۔آپ ترجمہ قرآن کے سلسلہ میں کئی سال لندن بھی رہے مگر وہاں بھی اپنی روایتی سادگی کو برقرار رکھا۔حقیقت یہ ہے کہ آپ کی سادگی ایک ضرب المثل تھی۔ایک نا واقف انسان آپ کو دیکھ کر کبھی گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ آپ انگریزی زبان کے ماہر ہیں۔ڈاکٹر محمدعبداللہ صاحب ( قلعہ صو باسنگھ ) کا بیان ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کے زمانہ کا ذکر ہے جب حضرت مولوی شیر علی صاحب ریویو آف ریلیجنز انگریزی کی ادارت کے فرائض انجام دیتے تھے۔ایک مرتبہ دو انگریز افسر قادیان آئے جب وہ نواب صاحب ( حضرت نواب محمد علی خاں صاحب۔مؤلف ) کی کوٹھی کے شمالی جانب سے