لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 384
384 گذرے تو قریب ہی حضرت مولوی شیر علی صاحب اپنی بھینسیں چرا رہے تھے۔آپ کا گریبان کھلا ہوا تھا اور نہایت سادہ لباس میں ملبوس تھے۔ان انگریز افسروں میں سے ایک نے حضرت مولوی صاحب سے پوچھا کہ ہمیں ریویو آف ریلیجنس کے ایڈیٹر سے ملنا ہے وہ کس جگہ ملیں گے؟ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔چلئے میں آپ کو ان کے مکان پر لے چلتا ہوں اور اپنے ہمراہ لا کر اپنی بیٹھک میں بٹھا کر فر مایا آپ تشریف رکھیں میں انہیں بلا لاتا ہوں۔حضرت مولوی صاحب کا مقصد یہ تھا کہ چائے وغیرہ تیار کریں۔باتوں باتوں میں تعارف بھی ہو جائے گا لیکن انہوں نے کہا کہ ہمیں ان کے گھر پر ہی لے چلیں راستہ میں مل لیں گے۔اس پر حضرت مولوی صاحب نے فرمایا: وو ریویو کا ایڈیٹر تو میں ہوں 66 دہ دونوں افسر یہ سن کر بے حد حیران ہوئے اور بے ساختہ ان کے منہ سے نکلا کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ اس رسالہ کا ایڈیٹر کوئی انگریز ہو گا۔سے آپ کی عموماً کوشش ہوا کرتی تھی کہ راستہ میں جو شخص بھی ملتا خواہ بچہ ہی کیوں نہ ہوتا اسے السلام علیکم کہنے میں سبقت فرماتے۔شفقت على خلق الله محترم میاں غلام محمد صاحب ٹیلر سرگودھا کا بیان ہے کہ ”ماہ دسمبر کی شدید سردیوں کا ذکر ہے ایک مرتبہ حضرت مولوی صاحب نماز سے فارغ ہو کر گھر جانے کے لئے مسجد (مبارک) کی سیڑھیوں سے اتر رہے تھے۔آپ کے پیچھے پیچھے میں بھی آ رہا تھا۔سیڑھیوں کے وسط میں پہنچ کر میں نے دیکھا کہ بائیں طرف دیوار سے لگا ہوا ایک مسافر کھڑا ہے۔جب حضرت مولوی صاحب اس کے پاس سے گذرے تو وہ کہنے لگا۔میں ایک غریب مسافر ہوں۔میرے پاس تن ڈھانکنے کیلئے کوئی کپڑا نہیں مجھ پر اللہ رحم کریں۔حضرت مولوی صاحب اس وقت اٹلی کا ایک بالکل نیا کمبل اوڑھے ہوئے تھے۔