لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 382 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 382

382 ضمیمه یہاں سے صحابہ کرام کے حالات بغیر کسی ترتیب سے درج کئے جاتے ہیں۔(مؤلف) حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ ولادت : ۲۴ نومبر ۸۷۵اء بيعت : ۱۸۹۷ء وفات : ۱۳ نومبر ۱۹۴۷ء حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ ۲۴ - نومبر ۱۸۷۵ء کو اپنے گاؤں ”ادرحمہ تحصیل بھوال ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد ماجد کا نام حضرت مولوی نظام الدین صاحب اور والدہ ماجدہ کا نام محترمہ گوہر بی بی تھا۔آپ کا تعلق رانجھا قوم سے تھا جو قریش خاندان کی شاخ ہے۔احمدیت سے متعارف آپ بھیرہ میں ہوئے جہاں آپ نے میٹرک تک تعلیم پائی۔حضرت مولوی حکیم فضل الدین صاحب بھیروی کے درس قرآن میں با قاعدگی کے ساتھ شمولیت فرماتے۔نیز کبھی کبھی میں جب حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب خلیفہ مسیح الاوّل رضی اللہ عنہ جموں وکشمیر سے اپنے وطن مالوف بھیرہ میں تشریف لاتے تو ان سے بھی روحانی فیوض حاصل کرتے۔بی۔اے کا امتحان آپ نے ایف سی کالج لاہور میں پاس کیا۔آپ نے ۱۸۹۷ء میں قادیان جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست حق پرست پر بیعت کی۔آپ شروع شروع میں بہت کمزور اور دبلے پتلے تھے۔کچھ عرصہ حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کے زیر علاج رہے۔ایک مرتبہ حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کی بیماری کا ذکر کیا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا شیر علی دودھ جتنا پیسکو پیو آپ کی بڑی صاحبزادی محتر مہ خدیجہ بیگم صاحبہ کا بیان ہے کہ ابا جی چوبیس گھنٹہ میں سولہ سیر دودھ پی لیا کرتے تھے۔دودھ چونکہ آپ کی غذا کا ایک اہم حصہ تھا اس لئے ہمیشہ دو تین بھینسیں رکھا کرتے تھے۔دودھ کے بکثرت استعمال کی وجہ سے آپ کا جسم کافی فربہ ہو گیا تھا۔