لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 343 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 343

343 ۳۔۱۹۰۹ء کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت میاں چراغ دین صاحب مرحوم نے اپنے مکان پر بیٹھے ہوئے فرمایا کہ ہمارے دفتر میں ایک بنگالی کلرک تھا جو مسمریزم کا ماہر تھا اور بسا اوقات صندوقچہ میں پڑے ہوئے یا جیب میں پڑے ہوئے خط کا مضمون بھی بتا دیا کرتا تھا اور اس کی اس قوت سے چیف انجنیئر تک بھی متاثر تھے اور ڈرتے تھے۔ایک دفعہ اس بنگالی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحقیر کرتے ہوئے متکبرانہ لہجہ میں کہا کہ اگر وہ میرے سامنے ہوں تو پھر تم کو ان کی حیثیت معلوم ہو جائے۔میں اس کے اس چیلنج کے مدنظر اسے ایک مرتبہ قادیان لے گیا۔جب ہم قادیان پہنچے تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔ہم دونوں مسجد کی تنگ سیٹرھیوں کے راستہ سے مسجد میں داخل ہوئے۔میں اس کے آگے آگے تھا۔جب میں مسجد مبارک کے اندر پہنچ گیا تو وہ بنگالی بدحواس ہو کر پیچھے کی طرف بھاگا اور میں اس کے اس فعل پر حیران ہوا۔اور اس کے پیچھے سیڑھیوں سے نیچے اتر آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ہے۔اس نے بتایا کہ وہاں تو کمرے میں دو شیر تھے جن کے خوف کی وجہ سے میں وہاں ٹھہر نہیں سکا۔کیا آپ نے وہ شیر نہیں دیکھئے ؟ خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ جس وقت (۱۹۳۹ء میں ) مرزا محمد صادق صاحب نے یہ روایت مسجد احمد یہ میں جمعہ کی نماز (۲۸۔ستمبر ۱۹۳۹ء) کے بعد بیان کی اس وقت حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل نے فرمایا کہ جہاں تک مجھے یاد ہے حضرت میاں چراغ دین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ وہ دو تین سیڑھیاں نیچے بھی گر گیا تھا۔اولاد : تین لڑکے اور دولڑ کیاں۔محترم میاں عزیز دین صاحب زرگر ولادت: ۱۸۹۶ء بیعت : ۱۹۰۴ء محترم میاں عزیز الدین صاحب زرگر پیدائشی احمدی ہیں۔گو آپ نے ۱۹۰۴ء میں بیعت بھی کر لی تھی۔آپ کی رہائش ڈبی بازار مکان حویلی کا بلی مل لا ہور میں ہے۔اولاد: رشید احمد۔رفیق احمد۔مبارک احمد - منیر احمد نصیر احمد۔