لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 342 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 342

342 رہتے تھے ان کی صحبت حاصل ہوگئی اور میں نے بھی ان کے ساتھ ہر جمعہ کو قادیان جانا شروع کر دیا۔سیکھواں کی جماعت کے احباب بھی باقاعدہ جمعہ پڑھنے قادیان جایا کرتے تھے۔ایک روز مجھے حضرت میاں امام الدین صاحب نے کہا کہ میاں ! تم نے بیعت کی ہے یا نہیں ؟ میں نے کہا۔ابھی نہیں کی۔فرمایا۔جلدی کرو۔کیا دیکھ رہے ہو؟ اس پر میں نے بیعت کر لی۔عشاء کی نماز کا وقت تھا۔ایک اور آدمی بھی ساتھ تھا۔میں نے حضرت اقدس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور ہم دونوں نے بیعت کر لی۔۱۹۰۴ء میں کام سیکھ کر میں واپس ملتان چلا گیا اور پھر وہاں سے کئی مرتبہ قادیان آیا۔ہر جلسہ پر بھی اور جلسہ کے علاوہ بھی۔حضرت اقدس کے وصال پر بھی پہنچ گیا تھا۔اولاد: نور احمد کا رکن بیت المال محمد اسلم محمد اکرم - محمد افضل محمد اجمل صاحب مربی سا محمد ارشد۔اقبال بیگم۔سعیدہ بیگم۔رفیقہ بیگم افسوس کہ حضرت منشی صاحب ۹ دسمبر ۱۹۶۵ء کو وفات پاگئے اور ۱۰ دسمبر ۱۹۶۵ء کو آپ کو بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن کیا گیا۔فانا الله وانا اليه راجعون۔محترم مرز امحمد صادق صاحب ولادت : ۱۸۹۰ء بیعت : ۱۹۰۴ء وفات : محترم مرزا محمد صادق صاحب ولد مرزا امیر الدین صاحب گجراتی ملٹری کے دفتر میں اکونٹنٹ تھے۔سلسلہ کے بہت فدائی تھے۔آپ نے سلسلہ کی تائید میں آئینہ صداقت“ وغیرہ کئی ایک کتا ہیں لکھیں۔جو بہت مقبول ہوئیں۔آپ کی روایات درج ذیل ہیں۔ا۔ایک مرتبہ حضرت اقدس نے اس مقام پر جہاں اب مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ ہے کھڑے ہو کر تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بے شک عیدین اور جمعہ مومنوں کے لئے خوشی کے دن ہیں لیکن سب سے بڑھ کر انسان کے لئے خوشی کا دن وہ ہے جس میں اس کے گناہ معاف ہو جائیں۔۲۔ایک مرتبہ مقدمہ کرم دین کے دوران میں گورداسپور گیا اور سات روز وہاں رہا۔گورداسپور میں جو سب انسپکٹر پولیس تھا وہ گجرات کا ایک ہندو تھا۔اس کا لڑکا میرا کلاس فیلو تھا۔اس نے مجھے تحاکمانہ لہجہ میں کہا کہ مرزا صاحب کہتے ہیں میں قید نہیں ہوں گا مگر میں تمہیں کہتا ہوں کہ وہ قید ہو جائیں گے۔