لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 291
291 احسنات کے اعتراف کے تحت حضرت دادا جان کا ذکر خیر بھی ضروری ہے۔حضرت دادا جان سردار روپ سنگھ ایک متمول اور کٹر خیالات رکھنے والے سکھ خاندان کے چشم و چراغ تھے۔آپ سترہ برس کی عمر میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔امرتسر میں جائیداد وغیرہ بہت تھی۔حسن اتفاق سے اس مکان میں مسلمان کرایہ دار آسے جس کی بالائی منزل میں آپ لوگ رہتے تھے۔ان کا آنا سونے پر سہا گہ کا کام کر گیا۔حضرت دادا جان کا اسلام کی طرف رجحان دیکھ کر وہ نیک فطرت آدمی انہیں اسلام سے روشناس کرواتا رہا۔رمضان المبارک کے دن آگئے۔روزوں کی حکمت و برکت سے انہیں آگاہ کیا۔آپ نے بھی روزے رکھنے کی خواہش ظاہر کی اور اسلام لانے سے قبل ہی اپنے خاندان کی لاعلمی میں رمضان کے روزے رکھے۔چونکہ آپ بالائی منزل میں رہتے تھے۔رات کو سوتے وقت ایک رسی سے پاؤں کے انگوٹھے کو باندھ لیتے تھے۔اس کا دوسرا سرا نیچے لٹکا دیا جاتا۔سحری کے وقت مسلمان کرایہ دارا سے ہلاتا تو آپ بیدار ہو کر نیچے اتر آتے۔ان کے ساتھ سحری کھا کر روزہ رکھ لیتے اور تمام دن اپنا روزہ پوشیدہ رفتہ رفتہ اسلام کی محبت گھر کر گئی۔باپ نے غصہ میں اپنے اکلوتے بیٹے کو جائیداد سے عاق کر دیا۔۔۔۔اور جب بہن بیاہی گئی تو ان کے شریف طبع خاوند نے ان کے دل میں بھائی کی محبت کی تڑپ دیکھ کر انہیں اس شرط پر اپنے بھائی سے ملنے کی اجازت دی کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے ہاتھ سے کچھ کھا ئیں نہیں۔اللہ تعالیٰ کے کام کو کون سمجھ سکتا ہے۔ادھر وہ دنیاوی مال و دولت سے محروم کر دئیے جاتے ہیں ادھر اللہ تعالیٰ انہیں دولت اسلام سے مالا مال کر دیتا ہے اور پھر ان کے خاندان پر مزید فضل یہ کرتا ہے رکھتے۔کہ انہیں نور احمدیت سے بھی منور کر دیتا ہے۔الحمد للہ علی ذالک اس طرح پر سردار روپ سنگھ سترہ برس کی عمر میں مسلمان ہو کر مولوی عبدالغنی بن گئے۔آپ بڑے عالم گذرے ہیں۔انبالہ سکول میں عربی فارسی کے معلم رہے۔پچاسی سے کچھ اوپر عمر پائی۔آپ کی اولاد میں چھ بیٹے اور ایک بیٹی تھی جن کے نام تاریخی ہیں۔ا۔ڈاکٹر اظہر علی ۱۲۹ هجری ( ان کا نام منارة المسح پر کندہ ہے ) ۲۔ڈاکٹر فیض علی صاحب صابر ۱۲۹۳ هجری ۳۔مظہر علی طالب ۱۲۹۷ هجری