لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 290
290 خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب میانہ قد کے وجیہ اور مضبوط انسان ہیں۔آپ کی رہائش ”شاہ مسکین میں ہے۔کبھی کبھی پنشن لینے کے لئے لاہور تشریف لایا کرتے ہیں۔تبلیغ کا آپ کو ساری عمر شوق رہا ہے۔چند سال کی بات ہے خاکسار بھی جلسہ سالانہ شاہ مسکین پر گیا ہوا تھا۔اور جلسہ شاہ مسکین کے معاً بعد بھینی شرقپور میں جلسہ تھا اور فاصلہ آٹھ نومیل کا تھا۔شاہ صاحب میرے ساتھ چل پڑے۔میں سمجھا کہ میل ڈیڑھ میل کے فاصلہ پر پختہ سڑک ہے اور ہر وقت بسیں آتی رہتی ہیں۔کسی بس پر سوار ہو کر چلے جائیں گے۔مگر میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ حضرت شاہ صاحب نے یہ سارا سفر بڑھاپے میں پیدل کیا اور آپ کے ساتھ مجھے بھی پیدل چلنا پڑا۔اس وقت آپ کی عمر ۸۳ سال ہے مگر صحت خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھی ہے۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کے ساتھ خاص دوستی رہی۔حکمت کا بھی شوق ہے۔آپ کے بعض نسخے بے حد مفید ہیں۔اولاد یار محمد۔مختار احمد۔سلطان محمود شاہد۔امۃ الحفیظ۔امۃ الرشید۔زبیدہ حضرت صوفی فضل الہی صاحب ولادت : ۱۸۸۶ء بیعت : بچپن میں وفات : ۴۔جنوری ۱۹۶۳ء عمر : ۷۷ سال حضرت صوفی فضل الہی صاحب ولد صوفی کرم الہی صاحب صحابی ابن صحابی تھے۔اندرون دہلی دروازہ گلی در زیاں میں رہا کرتے تھے۔نماز کے لئے باقاعدہ مسجد احمد یہ دہلی دروازہ میں آیا کرتے تھے۔میرٹھ اور شملہ میں بسلسلہ ملازمت رہے۔ریٹائر ہونے کے بعد لاہور آ گئے۔۴۔جنوری ۱۹۶۳ء کو ۷۷ سال کی عمر میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔آپ کے چھوٹے بھائی صوفی بشیر احمد صاحب بہت ہی مخلص احمدی تھے۔چند سال قبل وفات پائی۔اولاد شریف احمد عزیز احمد خلیل احمد ناصر احمد رضیہ سلطانہ صفیہ سلطانہ حضرت ڈاکٹر فیض علی صاحب صابر از قلم محترمه حمیده صابرہ صاحبہ دختر حضرت ڈاکٹر صاحب ولادت: ۱۲۹۳ هجری بیعت : انداز ۱۹۰۰ء وفات : ۱۴۔جنوری ۱۹۵۵ء میرے والد ڈاکٹر فیض علی صاحب صابر صحابی ایک نومسلم خاندان سے تھے۔اللہ تعالیٰ کے