لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 285 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 285

285 صاحب ہے جو پنجابی کے ایک مشہور شاعر تھے۔آپ نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔آپ بچپن سے احمدی تھے۔ویسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کرنے کا شرف بھی ۱۳ سال کی عمر میں حاصل ہوا۔ایک واقعہ آپ سنایا کرتے تھے کہ حضرت اقدس جب کبھی لاہورمیاں چراغ دین ومیاں معراج دین صاحبان کے مکانات میں آ کر ٹھہرا کرتے تھے تو لاہور کے ایک مخلص صحابی لیلاری ( رنگریز ) حضور کی خدمت میں لاہور کا فالودہ پیش کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ انہوں نے فالودہ مرزا صاحب کے ہاتھ ( جب کہ آپ ابھی بچہ ہی تھے ) حضور کی خدمت میں بھجوایا۔آپ بتایا کرتے تھے۔حضرت اقدس اس وقت کچھ لکھ رہے تھے اور خواجہ کمال الدین صاحب پاس بیٹھے تھے۔خواجہ صاحب نے فرمایا کہ پیالہ رکھ دو۔پیالہ ایک پلیٹ سے ڈھکا ہوا تھا۔چنانچہ آپ نے حسب ارشاد قریب ہی رکھ دیا اور نیچے اتر آئے۔عموماً دستور تھا کہ حضور تھوڑا سا فالودہ پی لیا کرتے تھے اور باقی نیچے ارسال کر دیتے تھے۔دوست اسی انتظار میں رہتے تھے اور تھوڑا تھوڑا تبرک سب چکھ لیتے تھے۔مگر اس دن حضور نے بغیر کچھ پینے کے سارا پیالہ نیچے واپس کر دیا کہ طبیعت آج نہیں چاہتی۔جب پیالہ نیچے آیا تو ڈھکنا اٹھا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس میں ایک مکھی گری ہوئی ہے۔سب حیران ہوئے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو ذراسی بھی مشتبہ چیز کی طرف مائل نہیں ہونے دیتا۔مگر وہ صحابی اپنے دل میں بہت افسردہ ہوئے کہ میری ذرا سی کو تا ہی کی وجہ سے یہ خرابی پیدا ہوئی ہے۔آپ نے تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد محکمہ تعلیم میں 1906ء میں ملازمت اختیار کر لی۔یہاں آپ نے ۳۵ سال سے بھی زیادہ عرصہ ملازمت کی۔اس محکمہ میں آپ کو مسلمانوں کی خدمت کرنے کا بہت اچھا موقعہ ملا۔آپ اپنی سروس کے دوران بڑے با اصول اور باقاعدگی رکھنے والے تھے۔آپ بڑے صائب الرائے اور ہمدرد انسان تھے۔آپ کے سب عزیز وا قارب آپ کی رائے کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔آپ کے والد مرز ا ہدایت اللہ صاحب کی وفات کے بعد جو شر پسند عناصر نے مکان کے ساتھ ملحقہ مسجد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اس کے دوران آپ نے بڑی مستعدی سے دوستوں کے ساتھ مل کر مقابلہ کیا۔مقدمات کے دوران مالی مدد کا زیادہ بار آپ ہی نے اٹھایا۔پانچ چھ سال تک یہ جھگڑا چلتا