لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 284 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 284

284 موصی نہیں تھے تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ ان کے لئے وصیت کی ضرورت نہیں تھی۔چنانچہ حضور کی اجازت پر آپ کا ایک کتبہ مقبرہ بہشتی میں نصب کروا دیا گیا۔آپ کی اولا دحسب ذیل تھی۔ا۔پہلے لڑکے کا نام کریم اللہ تھا جو ۵ سال کی عمر میں وفات پا گیا۔۲۔مرزا ولی اللہ۔۱۱۔جنوری ۱۸۶۸ء کو پیدا ہوئے۔۱۴۔اکتو بر ۱۹۱۲ء کو ۴۵ سال کی عمر میں وفات پائی۔آپ ماسٹر ولی اللہ کے نام سے موسوم تھے۔آپ کے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔۳۔مرزا عنایت اللہ۔سن پیدائش ۱۲۔جون اے ۱۸ ء اور وفات ۱۸ ستمبر ۱۹۰۳ء ہے۔۳۲ سال کی عمر پائی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔۴۔مرزا قدرت اللہ - ۲۳۔اکتوبر ۱۸۸۰ء کو پیدا ہوئے اور ۲۰۔ستمبر ۱۹۴۸ء کو ۶۸ سال کی عمر میں وفات پائی۔آپ کے بفضلہ تعالیٰ بہت سے بچے پیدا ہوئے جن میں سے کچھ کم عمری اور کچھ جوانی میں بھی فوت ہوئے۔بفضل خدا تین لڑکے اور تین لڑکیاں بقید حیات ہیں۔۵۔۵۔مرزا عطاء اللہ۔۲۱۔اپریل ۱۸۸۷ء کو پیدا ہوئے اور ۲۷۔اکتوبر ۱۹۶۳ء کو ساڑھے چھہتر سال کی عمر میں فوت ہوئے۔آپ کے کل چارلڑکے اور چار لڑکیاں ہوئیں۔جن میں سے چارلڑ کے اور تین لڑکیاں زندہ ہیں۔۔عائشہ بیگم۔آپ کی یہی ایک لڑکی تھی جو ۱۲۔ستمبر ۱۸۷۷ء کو پیدا ہوئی اور عین جوانی میں ۲۶ سال کی عمر میں ۱۹۰۲ء کو فوت ہوگئی تھی میں محترم مرزا عطاء اللہ صاحب رضی اللہ عنہ ولادت : ۲۱۔اپریل ۱۸۸۸ء بیعت : بچپن میں وفات : ۲۷۔اکتوبر ۱۹۶۳ء عمر : ساڑھے چھہتر سال آپ کا سن پیدائش ۲۱ اپریل ۱۸۸۸ء ہے۔آپ کے والد کا نام مرزا ( بابا ) ہدایت اللہ یہ حالات مکرم مرزا عزیز احمد صاحب مکان نمبر ۲۴ زبیر سٹریٹ اسلامیہ پارک لا ہور نے ۱۱ جولائی ۱۹۶۵ء کو لکھ کر دئیے تھے۔(مؤلف)