لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 283 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 283

283 آپ بڑے مستعد اور بر وقت نماز روزہ کے پابند تھے۔بڑے دعا گو اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔لوگ آپ کے پاس تکالیف اور بیماریوں وغیرہ میں دعا کے لئے حاضر ہوا کرتے تھے۔بعض اوقات لوگوں کو تعویذ بھی لکھ دیا کرتے تھے۔آپ کی ساری اولاد بفضلہ تعالیٰ احمدیت کی شیدائی تھی اور ہے۔آپ اپنی آخری عمر کے دو تین سال پیشتر تک باقاعدہ مسجد میں جو کہ آپ کے جدی مکان کے ساتھ ملحق تھی نمازیں ادا کیا کرتے تھے۔آپ کی زندگی میں تو کسی کو اس مسجد کی طرف نظر اٹھانے کی ہمت نہ ہوئی۔مگر آپ کی وفات کے بعد ہی چند شر پسند مخالفین نے اس مسجد پر قبضہ کرنے کے لئے سازشیں شروع کر دیں۔کئی سالوں کے لڑائی جھگڑے اور عدالتوں کے فیصلہ کے بعد احمدیوں نے خود ہی اس مسجد کو چھوڑ دیا کیونکہ عدالتی فیصلہ کی رو سے ہر فریق کو نماز ادا کرنے کا حقدار ٹھہرایا گیا تھا۔مگر یہ ایک مستقل لڑائی جھگڑے کی بنیاد تھی۔جو نمازوں کی حرمت کے خلاف تھی۔خلافت ثانیہ کے اوائل میں آپ پیغامی جماعت کی طرف مائل رہے کیونکہ اکا برین لاہور سے آپ کے بڑے تعلقات تھے۔مولوی محمد علی صاحب و دیگر اکابرین گاہے بگا ہے آپ کی خبر گیری کیا کرتے تھے تا کہ آپ کے دل میں وسو سے پیدا کرتے رہیں۔آپ بذات خود سادہ طبیعت کے تھے۔ویسے بھی بڑھاپے کا زمانہ تھا۔۸۰ سال سے زیادہ عمر ہو چکی تھی۔ایک دو مواقع پر مولوی محمد علی صاحب اور شاید ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب آپ کی تیمارداری کی غرض سے گھر پر تشریف لائے تھے۔مگر آپ کے دونوں فرزند خلافت ثانیہ کی بیعت میں شامل تھے۔ان کے دریافت کرنے پر فرمایا کرتے تھے کہ ان سے تو صرف میرے دیرینہ تعلقات ہیں۔ورنہ بیعت کے لحاظ سے میں اپنے بچوں کے ساتھ ہی ہوں۔چنانچہ وفات سے کئی سال پہلے آپ نے باقاعدہ بذریعہ خط اور بذریعہ الفضل اعلان فرما کر خلافت ثانیہ کی بیعت کا اعادہ فرما دیا۔تا کہ دوستوں میں غلط فہمی نہ رہے۔آپ نے ۹۶-۹۷ سال کی عمر میں ۱۹۲۹ء میں وفات پائی۔محلہ کے ایک ڈھنڈور چی سائیں فیروز نے اسی وقت اپنے طور پر سارے شہر میں آپ کی وفات کی منادی کر دی۔کیونکہ اسے بھی آپ سے بڑی عقیدت تھی۔چنانچہ ایک جم غفیر آپ کے جنازہ کے ساتھ شامل ہوا۔پھر آپ کی وفات پر آپ کے فرزند مرزا قدرت اللہ صاحب نے حضرت اقدس خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں آپ کی وفات اور تدفین وغیرہ کی اطلاع خود حاضر ہو کر دی تو حضور نے فرمایا کہ آپ انہیں قادیان کیوں نہیں لے کر آئے؟ جب بتایا گیا کہ آ