لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 282 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 282

282 کی کوشش کرتے مگر آپ کے منع فرمانے پر بھی وہ اصرار کرتے کہ میرے مذہب میں چونکہ جائز ہے اس لئے مجھے آپ منع نہیں کر سکتے۔آپ شروع میں اہلحدیث کے خیالات سے متفق تھے اور مسجد چینیاں والی ( جو کہ اہلحدیث کی مسجد ہے) میں عموماً نمازیں ادا کیا کرتے تھے۔اسی وجہ سے آپ کو مشرکانہ رسومات وغیرہ سے سخت نفرت تھی۔چنانچہ ایک دفعہ آپ کے گھر ایک اسی طرح کا واقعہ ہوا۔کہ گھر کے ایک کمرہ کی دیوار میں پرانی طرز کی کلیاں ( کھونٹیاں ) لگی ہوئی تھیں۔ہمسائیوں سے آنے جانے والی عورتیں کمزوری ایمان اور تو ہمات کی وجہ سے اس کھونٹی پر ہار ڈالتیں اور تیل کے دیئے جلاتی رہتیں جیسے عموما کمز ور لوگ قبروں پر کرتے رہتے ہیں۔ایک دن اس کمرے میں آپ کا اتفاقا جانا ہوا۔تو آپ یہ دیکھ کر بڑے خفا ہوئے کہ میرے گھر میں یہ مشرکانہ رسومات کیسے داخل ہوئیں۔چنانچہ اسی وقت آپ نے غصہ میں وہ کھونٹی اکھاڑ کر آگ میں جلا دی۔اسی رات کو آپ نے خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص آپ سے اس کھونٹی کے اتارنے پر جھگڑا کر رہا ہے اور اس نے آپ کی دونوں انگلیاں جن سے اتاری تھی پکڑ کر مروڑ دیں۔صبح کو آپ اٹھے تو آپ کی وہ دونوں انگلیاں سن ہو رہی تھیں۔آپ نے صبح کی نماز کے بعد یہ خواب مولوی غلام رسول صاحب جو چینیاں والی مسجد میں نماز پڑھاتے تھے کو سنایا۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ لاحول پڑھو یہ شیطان کا آخری حملہ تھا۔انگلیوں پر پھونک ماری اور اسی وقت ٹھیک ہو گئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کے روابط حضور کے دعوی نبوت سے کافی پیشتر سے تھے۔یہ علم نہیں ہو سکا کہ کس سن سے آپ کی واقفیت حضور سے قائم ہوئی۔بہر حال آپ سے یہ سنا گیا ہے کہ حضور جب کبھی دعوئی سے پہلے لاہور تشریف لاتے تو مسجد چینیاں والی میں کبھی کبھار تشریف لاتے۔آپ کی ملاقات بھی حضور سے اسی مسجد میں شروع ہوئی تھی۔ایک دفعہ حضرت اقدس نے مسجد میں ملاقات کے دوران فرمایا کہ چلو مرزا صاحب آپ کا مکان بھی دیکھ لیں۔چنانچہ بابا جی بتا یا کرتے تھے کہ حضرت اقدس آپ کے مکان تک تشریف لائے اور ایک منٹ کے قریب مکان کے تھڑے تک تشریف لا کر نظر ڈال کر واپس تشریف لے گئے۔بابا جی کی بیعت کی تاریخ کا علم نہیں۔جہاں تک قرائن سے معلوم ہوتا ہے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے ۱۹۰۰ء سے پہلے حضور کی بیعت کر لی تھی۔