لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 266
266 جس آریہ نے یہ کہا تھا کہ اگر مرزا صاحب میں طاقت ہے تو میری زبان بند کریں۔اس کی زبان اسی وقت بند ہو گئی۔اسے بٹالہ ہسپتال لے جایا گیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔میرے ساتھی بھی اس کے ساتھ بٹالہ چلے گئے میرا کرایہ چونکہ ان کے پاس جمع تھا اس لئے میں قادیان سے بٹالہ تک پیدل گیا۔جب ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے میری رقم دے دی اور کہا کہ یہاں احمدیوں کے خلاف سخت اشتعال پیدا ہو چکا ہے بہتر ہو کہ آپ سرائے میں جا کر رات گزار لیں۔چنانچہ میں سرائے میں چلا گیا اور رات وہاں گذار کر صبح لاہور پہنچ گیا۔اولاد عبد المالک مرحوم - عبدالسلام مرحوم - عزیز احمد محمود احمد۔رشیدہ۔زبیدہ۔امینہ۔خورشیدہ۔عزیزہ۔رفیعہ۔اختر محمودہ حضرت قاضی سید حبیب اللہ صاحب آف شاہدرہ ولادت : ۱۸۷۱ء بیعت : ۱۹۰۰ ء وفات : ۴۔مارچ ۱۹۶۴ء عمر : ۹۳ سال : حضرت قاضی حبیب اللہ صاحب سکنہ شاہدرہ بہت مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔والد ماجد کا نام تھے شاہ تھا۔کثرت کے ساتھ لوگ آپ کی خدمت میں دعا کروانے کے لئے حاضر ہوا کرتے تھے۔تبلیغ کا بھی آپ کو بہت شوق تھا۔کئی کئی دن دیہات میں تبلیغ احمدیت کے لئے نکل جاتے تھے جب تک چلنے پھرنے کی طاقت رہی آپ شاہدرہ سے ہر جمعہ کو نماز کے لئے مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ لاہور میں تشریف لایا کرتے تھے۔مگر جب بہت کمزور ہو گئے تو پھر آنا ترک کر دیا۔نماز تہجد عمر بھر باقاعدگی کے ساتھ ادا فرماتے رہے۔آپ اپنے رویا وکشوف بھی کثرت کے ساتھ سنایا کرتے تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ : جب جلسہ مہوتسو ہوا جو جلسہ اعظم مذاہب کے نام سے مشہور ہے تو ان ایام میں میری رہائش لاہور چھاؤنی میں تھی۔ہم روزانہ اس جلسہ کی روئداد پڑھا کرتے تھے۔اور جولوگ اس جلسہ میں شامل ہوا کرتے تھے ان سے بھی حالات سنا کرتے تھے۔وہ کہا کرتے تھے کہ اسلام کی لاج مرزا صاحب نے رکھ لی ہے ورنہ دوسرے علماء نے تو لٹیا ڈبو ہی دی تھی۔ایک احمدی محمد حسین نامی مجھے تبلیغ بھی کیا کرتے تھے اور میں بھی ان کی خدمت کیا