لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 267 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 267

267 کرتا تھا مگر ان کی تبلیغ سے میری تسلی نہیں ہوتی تھی۔آخر میں نے دعا کرنی شروع کی اور تین خواب دیکھے ان خوابوں سے میری تسلی ہو گئی اور حضرت اقدس کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا۔رشتہ داروں نے شدید مخالفت کی۔میں میاں محمد حسین صاحب مذکور کے پاس گیا وہ میڈیکل ڈپو میں ملازم تھے۔مجھے وہ اپنے پاس لے گئے چند دنوں کے بعد میں وہیں ایک دکان کرایہ پر لے کر اس میں رہنے لگ گیا۔جن ایام میں حضور جہلم تشریف لے گئے تھے میں ان دنوں میاں میر چھاؤنی میں ملازم تھا۔جب حضور کی گاڑی میاں میر پہنچی تو میں بھی حضور کے ساتھ گاڑی میں سوار ہو گیا۔رات میاں چراغ دین صاحب کے مکان پر تمام مہمان فروکش ہوئے۔میں نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو کہا کہ میرا بستر حضرت اقدس کے بالکل قریب کیا جائے۔میں حضور کو رات نفل پڑھتے دیکھنا چاہتا ہوں۔انہوں نے حضرت کی چارپائی کے ساتھ ہی میرا بستر کروا دیا۔دو بجے رات کو میں اٹھا اور وضو کرنے کے لئے باہر چلا گیا۔جب واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص میرے بستر پر کھڑ انفل پڑھ رہا ہے۔میں نے ایک دوست سے کہا کہ دیکھو کوئی اور دوست میری جگہ پر آ کر کھڑے ہو گئے ہیں۔حالانکہ میں نے بڑی مشکل سے یہ جگہ حاصل کی تھی۔جب اس دوست نے سلام پھیرا تو معلوم ہوا کہ وہ حضرت اقدس تھے۔سلام پھیرتے ہی حضور نے فرمایا۔آئیے آپ اپنی جگہ پر بیٹھ جائے اس پر میں نے بہت معذرت کی مگر حضور علیہ السلام نے مجھے پکڑ کر اس جگہ پر کھڑا کر دیا۔اور آپ دوسری جگہ تشریف لے گئے۔جب حضور نفل پڑھ چکے تو حضرت مفتی صاحب نے عرض کی۔حضور یہ قاضی حبیب اللہ صاحب ہیں۔فرمایا۔میں ان کو اچھی طرح جانتا ہوں۔آپ انہیں میری تازہ تصنیف ” مواہب الرحمن دیں۔جب میں نے کتاب حاصل کر لی تو حضور نے فرمایا۔قاضی صاحب! اسے ضرور پڑھیں۔اس میں چند نئی پیشگوئیاں ہیں۔میں نے عرض کی۔بہت اچھا۔حضور میں اسے ضرور پڑھوں گا وہ کتاب میرے پاس اب تک موجود ہے۔نوٹ : سلسلہ کے لٹریچر میں بعض جگہ حضرت قاضی صاحب کی رہائش مزنگ میں بھی درج ہے حمید ان خوابوں اور حضرت قاضی صاحب کی روایات کیلئے دیکھئے۔الحکم ۱۴۔اکتوبر ۱۹۳۶ء