لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 265 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 265

سے بھرا ہوا تھا۔265 حضرت میاں عبد الرشید صاحب نے بیان کیا کہ : لنگے منڈی میں ہمارے مکانوں کے سامنے جو چھوٹی سی مسجد ہے اس وقت حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب کی مسجد کہلاتی تھی۔حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب نے کابل جاتے ہوئے اسی مسجد میں قیام فرمایا تھا۔آپ سارا دن اور ساری رات عبادت میں مشغول رہتے۔جب انہیں ہمارے والد صاحب کہتے کہ آپ آرام بھی کیا کریں تو آپ فرماتے کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا کہ اس نے مجھے اس انسان کی زیارت کرنے کا موقعہ عطا فرمایا جس کی انتظار صدیوں سے ہو رہی تھی۔جب آپ لاہور سے کابل کی طرف جانے لگے تو گھوڑا گاڑی کے پائیدان پر قدم رکھ کر نیچے کر لیا اور فرمایا کہ کابل کی زمین میرے سر کی پیاسی ہے۔حضرت والد صاحب نے آپ کو گلے سے لگالیا اور روپڑے۔آپ نے فرمایا یہ تو خوشی کا مقام ہے رونے کا مقام نہیں۔سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے میاں صاحب نے فرمایا: قادیان میں آریہ سماج کا کوئی جلسہ تھا۔میرے آریہ دوستوں نے مجھے کہا کہ تم بھی چلو۔میں نے کہا۔بہت اچھا! قادیان جانے میں مجھے کیا عذر ہوسکتا ہے۔خیر آریہ لیکچراروں نے اپنے جلسہ میں اسلام پر بہت اعتراضات کئے۔ایک لیکچرار نے تو یہاں تک کہا کہ اگر مرزا صاحب میں طاقت ہے تو میری زبان بند کر دیں۔جب حضرت صاحب کو اطلاع ہوئی تو حضور نے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب سے سارے اعتراضات منگوا لئے اور باوجود بیماری کے راتوں رات ان کا جواب لکھ کر صبح شائع کر کے کتابی صورت میں اس کی متعدد کا پیاں آریوں کے جلسہ میں پہنچا دیں۔پنڈت رام بھیجدت جو ان کا لیڈر تھا وہ طبع شدہ مضمون دیکھ کر حیران رہ گیا اور اس نے کہا کہ میں کل مرزا صاحب کو مل کر آیا ہوں۔وہ تو بیمار تھے۔مگر دیکھو ان کے دل میں اپنے مذہب کے بارے میں اس قدر جوش اور غیرت ہے کہ انہوں نے ایک رات کے اندر ہمارے اعتراضات کے جوابات لکھ کر شائع بھی کروا لئے ہیں۔وہ مضمون حضرت صاحب کی کتاب نسیم دعوت کے آخر میں درج ہے۔