لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 264
264 میں جا بیٹھے اور جب نماز ظہر کیلئے میں نے وضو کرنا شروع کیا تو پہلی مرتبہ اس نے بھی وضو کیا اور نماز میں شریک ہوا۔نماز کے بعد اس نے بیعت بھی کر لی۔فالحمد للہ علی ذالک حضرت میاں صاحب نے ایک لمبا زمانہ امرتسر میں بسلسلہ ملازمت گزارا۔وہاں آپ چیف مکینیکل ڈرافیٹس مین کے عہدہ پر فائز تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ آٹھ دس آدمی جنہوں نے مجھ سے کام سیکھا وہ سارے کے سارے احمدی ہو گئے۔محترم جناب چوہدری عبدالرحیم صاحب صدر حلقہ اسلامیہ پارک بھی انہی شاگردوں میں سے تھے جن کا مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ خاص تعلق تھا۔اسی طرح مولوی ثناء اللہ صاحب کی مسجد کے ایک امام مولوی نظام الدین صاحب نام تھے ان کے دونوں لڑکے احمدی ہو گئے۔امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھنے سے لوگوں نے احتراز کیا۔جب مولوی ثناء اللہ صاحب سے فتویٰ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں۔احمدی تو ان کے بچے ہوئے ہیں۔ان کا کیا قصور ہے؟ مگر تھوڑے عرصہ کے اندر اندر امام صاحب بھی احمدی ہو گئے۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ مولوی نظام الدین صاحب موصوف کے ایک لڑکے چوہدری محمد ابراہیم صاحب بہت ہی مخلص احمدی ہیں۔کرشن نگر لاہور میں رہتے ہیں۔ان کی اولا د یوں تو ساری ہی نیک ہے مگر ایک لڑکا عزیزم محمد سلیم تو سلسلہ کا فدائی ہے۔فالحمد للہ علی ذالک ۱۹۳۹ء میں ایک مرتبہ میں امرتسر گیا۔حضرت میاں صاحب کے ہاں قیام تھا۔آپ نے ایک واقعہ یوں بیان فرمایا کہ ہمارے گھر کے سامنے ایک پہلوان رہا کرتا تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں بہت گستاخیاں کیا کرتا تھا۔کہا کرتا تھا کہ نعوذ باللہ آپ کے جسم میں کیڑے پڑ گئے تھے۔چند دن کی بات ہے۔رات نہانے کے بعد گیلا کپڑا سکھانے کے لئے اس نے اپنے مکان کی دوسری منزل پر کھڑے ہو کر سامنے کے درخت پر کپڑا ڈالنا چاہا مگر پاؤں جو پھیلا تو دھڑام سے گلی کے فرش پر گرا۔صبح جب میں دفتر جانے لگا تو پولیس پہنچ چکی تھی۔جب چار بجے واپس آیا تو تفتیش مکمل ہونے کے بعد میرے سامنے اس کی لاش پر سے کپڑا اٹھا گیا یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ سخت گرمی کا موسم ہونے کی وجہ سے سارا جسم کیڑوں