لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 263
263 دیکھنے کے لئے اس کے پیچھے پیچھے ہو لئے۔بعد ازاں انہوں نے مجھے تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔ہم نے اس لڑکے کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کئے۔اور ایسٹر کی رخصتوں میں میں اسے قادیان لے گیا۔حضرت خلیفہ اول اپنے مطب میں تشریف فرما تھے اور درس تدریس کا سلسلہ جاری تھا۔میں نے اس لڑکے کو کہا کہ یہاں آپ اپنا کوئی سوال کریں۔مگر وہ حضرت مولوی صاحب کے علم اور رعب اور ساتھ ہی سادگی کو دیکھ کر مبہوت ہو رہا تھا۔جب اسے سوال کرنے کی جرات نہ ہوئی تو میں نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں اس کے حالات عرض کئے اور کہا کہ آریہ خیالات سے متاثر ہو کر اس نے گوشت کھانا بھی چھوڑ دیا ہے۔حضرت مولوی صاحب جب مطب سے فارغ ہوئے تو آپ نے اپنے گھر سے دال مونگ جو غالباً پہلے ہی تیار تھی مہمان خانہ میں بھجوا دی اور مجھے کہا کہ اپنے اس دوست کو کھانے کے لئے یہ دال پیش کرنا۔اس کے بعد ظہر کی نماز کے لئے ہم دونوں مسجد مبارک میں گئے مگر اس میرے دوست نے نماز نہیں پڑھی۔نماز کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں تشریف فرما ہوئے۔بعض دوستوں نے آریوں کے سوالات ہی حضور کی خدمت میں پیش کئے جن کے حضور نے جوابات دیئے۔میرا دوست ان جوابات کو بڑے غور سے سنتا رہا۔میں نے اسے بھی کہا کہ آپ بھی کوئی سوال کریں مگر اس نے اس مرتبہ بھی کوئی سوال نہ کیا۔اس کے بعد عصر کی نماز ہوئی۔عصر کے بعد حضرت خلیفہ اوّل کے درس میں ہم شامل ہوئے۔اس درس سے وہ اس قدر متاثر ہوا کہ اسے یقین نہیں آتا تھا کہ یہ قرآن مجید کی تعلیم ہے جو بیان کی جارہی ہے۔وہ سمجھتا تھا کہ یہ حضرت مولوی صاحب کے اپنے خیالات ہیں۔جب آپ درس سے فارغ ہوئے تو اس میرے دوست نے حضرت مولوی صاحب سے سوال کیا کہ جب خدا تعالیٰ کی صفت رحمن رحیم ہے تو ایک جانور کو ذبح کر دینا یہ کہاں کی رحمانیت اور رحیمیت ہے؟ آپ نے فرمایا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اسی رحمن اور رحیم خدا نے ایسے جانوروں کو بھی پیدا کیا ہے جو دوسرے چھوٹے جانوروں کو اپنا لقمہ بنا لیتے ہیں۔کیا ایسے جانور رحمن اور رحیم خدا کی مخلوق نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔اس قسم کے جوابات سے اس پر بڑا اثر ہوا۔مغرب وعشاء کے درمیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس عرفان میں شامل ہوئے۔دوسرے روز پھر حضرت خلیفہ اول کے مطب