لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 239 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 239

239 نے اس موضوع پر کوئی آدھ گھنٹہ تقریر فرمائی۔وہ بہت شرمندہ ہوا اور خاموش ہو گیا۔پھر حضور عجائب گھر تشریف لے گئے۔۴۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں قادیان میں تھا۔۴۔اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے بعد۔ان ایام میں حضور قادیان سے باہر قیام پذیر تھے۔حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا اس مکان میں تھیں جو باغ میں ہے اور حضور ایک خیمہ میں تھے۔حضرت ام المومنین نے میر مہدی حسین صاحب کو شیشے کا ایک مرتبان دے کر فرمایا کہ شہر جا کر عرق لے آؤ۔اس مرتبان کے او پر ایک چٹ لگی ہوئی تھی عطیہ از محبوب عالم جے پور یہ شخص قاضی محمد اسلم صاحب کا بھائی تھا۔میر صاحب نے فرمایا کہ آؤ۔دونوں چلیں۔میں بھی ساتھ ہو گیا۔جب ہم مرز ا سلطان احمد صاحب کے باغ میں پہنچے تو میر صاحب نے مجھے کہا کہ لو یہ مرتبان پکڑو۔چنانچہ میں نے ان سے مرتبان لے لیا۔جب وہ مرتبان میرے ہاتھ میں آیا تو جو نہی میں نے دونوں ہاتھوں سے پکڑا تو اوپر کا حصہ میرے ایک ہاتھ میں رہ گیا اور نیچے کا دوسرے ہاتھ میں۔گویا دو ٹکڑے ہو گئے۔میں حیران ہو گیا کہ یہ کیا ہو گیا۔سید مہدی حسین صاحب نے مجھے کہا کہ یہ حضرت ام المومنین نے مجھے دیا ہے اور اب آپ کو ان کے پاس جوابدہی کے لئے چلنا ہوگا چنانچہ ہم دونوں حضرت ام المومنین کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے۔دروازے پر دستک دی۔اتفاق سے حضرت ام المومنین ہی اندر سے بولیں کہ کیا ہے؟ کون ہے؟ مہدی حسین نے کہا کہ حضور۔مہدی حسین ہوں۔فرمایا کیا بات ہے؟ میر صاحب نے کہا کہ وہ مرتبان جو حضور نے عرق لانے کے لئے دیا تھا محبوب عالم نے توڑ ڈالا ہے۔فرمایا۔ان کو حضرت صاحب کے پاس لے جاؤ۔وہاں سے ہم خیمہ کی طرف آئے۔عصر کا وقت تھا۔حضور کرسی پر تشریف فرما تھے۔السلام علیکم کے بعد حضور نے اندر آنے کی اجازت دی۔اب میں ڈرتے ڈرتے اندر گیا اور دل میں میرے کئی قسم کے خیالات تھے کہ معلوم نہیں اب کیا سرزنش ہوگی۔بدن پسینے سے تر ہو رہا تھا۔خوف سے دم خشک ہو رہا تھا۔جب حضور کی خدمت میں پیش ہوئے۔اور سید مهدی حسین صاحب نے اپنا وہی بیان دیا کہ محبوب عالم نے مرتبان توڑ ڈالا ہے۔میرا خیال تھا کہ حضور پوچھیں گے کس طرح توڑا ہے کیسے ٹوٹا ہے؟ تو میں ساری