لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 240 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 240

240 حقیقت بیان کر دوں گا۔مگر حضور نے کچھ نہیں فرمایا۔صرف اتنا کہا کہ ”بہت ہی اچھا ہوا مرتبان ٹوٹ گیا۔اگر یہ برتن ٹوٹیں نہیں تو ہمارے گھر میں اس کثرت سے جمع ہو جائیں کہ ہمارے رہنے کے لئے کہیں جگہ ہی نہ رہے، میں حضور کے اس جواب سے اس قدرخوش ہوا کہ میرا تمام رنج و فکر کا فور ہو گیا اور مجھے کچھ عرض کرنے کی دلیری ہو گئی۔چنانچہ میں نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ میں کل یا پرسوں تک لا ہور جانے والا ہوں۔ایک مرتبان حضور کے واسطے خرید کر بھیج دوں گا۔اس پر حضور نے فرمایا۔یہ شرعاً منع ہے۔تاوان لینا شریعت میں جائز نہیں ہاں اگر ( کوئی تحفہ بھیج دے ہم قبول کر لیتے ہیں۔پس حضور سے یہ مسئلہ اس وقت ہم نے سیکھا ہم خوشی خوشی وہاں سے الوداع ہو کر واپس آ گئے۔چنانچہ اس کے بعد میں نے بھی یہی طریق رکھا کہ اگر کسی ملازم سے کوئی چیز ٹوٹ جائے تو اس سے تاوان کبھی نہیں لیا۔۵۔اب پھر گذشتہ بات کا ذکر کرتا ہوں کہ میں ہیں روپیہ ماہوار پر ملازم ہوا تھا مگر بعد میں ترقی کر کے ۱۱۰ روپے لینے لگ گیا۔قریباً پچیس سال تک اس دوکان میں ملازمت کی اور جتنے لوگوں نے میرے ساتھ مڈل پاس کیا تھا اور سرکاری ملازمتیں حاصل کی تھیں۔وہ جب کبھی مجھے ملتے تو یہی کہتے کہ آپ مزے میں ہیں ہمیں تو بڑی مصیبت ہے۔غرض حضور کی دعا سے میرا زمانہ ملازمت نہایت ہی امن سے گذرا۔چنانچہ حضرت نانا جان مجھے فرمایا کرتے تھے کہ تم ملازم نہیں مالک ہو۔ملازمت کے دوران میں ہمارے رشتہ داروں میں سے ایک صاحب صدر الدین نام نے جو پولیس میں ملازم تھے۔مجھے پیغام بھیجا کہ اگر آپ ہمارے ہاں شادی کرنا منظور کریں تو ہم تمہیں بخوشی رشتہ دے دیں گے۔بشرطیکہ آپ مرزائیت سے تو بہ کر لیں۔میں نے ان کو کہا یہ ناممکن بات ہے۔شادی کے لئے تو میں تیار ہوں۔مگر احمدیت سے تو یہ نہیں کر سکتا۔حضرت صاحب کی خدمت میں لکھا۔حضور نے جواب دیا کہ آپ اس جگہ شادی کرنے کی کوشش کریں اور اگر کوئی مشکل پیش آوے تو ہمیں لکھیں اور اگر نقدی کی ضرورت ہو تو ہم مدد بھی دیں گے۔میں نے یہاں سلسلہ شروع کیا۔ان کی طرف سے یہ اصرار ہوتا تھا کہ احمدیت سے تو بہ کرو۔مگر والدہ ان لڑکوں کی اس شرط کے