لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 231
231 ضرور جاؤں گا اس پر انہوں نے آپ کو مسجد سے باہر نکال دیا۔آپ اڈہ پر تشریف لے گئے۔کچھ لوگ آپ کو قادیان جانے سے روکنے کیلئے اڈہ تک بھی پیچھے گئے اور یہ لالچ بھی دیا کہ تم طالب علم ہو۔ہم تمہیں یہاں بڑے میاں کے پاس بٹھا دیں گے اور تمہاری رہائش اور لباس کا بھی انتظام کر دیں گے۔مگر آپ نے فرمایا کہ آپ پہلے ہی لاہور میں پڑھ رہے ہیں۔یہاں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ان باتوں کے بعد آپ رات ہی کو قادیان کی طرف چل پڑے۔مگر اندھیرا بہت تھا۔راستہ سے بھی ناواقفیت تھی۔اس لئے کچھ راستہ طے کرنے کے بعد غلطی سے چراغ کی کو دیکھ کر مسانیاں چلے گئے۔وہاں عشاء کی نماز ہو چکی تھی۔لیکن ایک آدمی ابھی مسجد میں ذکر الہی کر رہا تھا۔اس نے بتایا کہ قادیان تو یہاں سے دور ہے اور راستہ بھی مخدوش ہے۔اس لئے رات یہاں سور ہو۔صبح چلے جانا۔چنانچہ صبح چار بجے کے قریب جب چاند نکلا تو وہ شریف آدمی آپ کو وڈالہ تک چھوڑ گیا۔آپ نے نماز فجر نہر پر پڑھی اور سورج نکلنے کے قریباً ایک گھنٹہ بعد آپ قادیان پہنچ گئے۔قادیان کے چوک میں جا کر ایک شخص سے پوچھا کہ بڑے مرزا صاحب کہاں ہیں؟ اس نے کہا کہ وہ سامنے کی بڑی حویلی میں تخت پوش پر بیٹھے حقہ پی رہے ہیں۔آپ نے جب آگے بڑھ کر دیکھا تو اس شخص کی ہئیت کذائی دیکھ کر سخت افسوس ہوا اور دل ہی دل میں کہنے لگے کہ کاش میں یہاں نہ آتا۔ابھی واپس لوٹے ہی تھے کہ حضرت حافظ حامد علی صاحب سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے پوچھا کہ آپ کس جگہ سے تشریف لائے ہیں اور کسے ملنا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔میں نے جس کو ملنا تھا مل لیا ہے اور اب واپس جا رہا ہوں۔انہوں نے فرمایا کہ اگر تو آپ حضرت مرزا صاحب کو ملنے کے لئے آئے ہیں تو وہ یہ مرزا نہیں ہے وہ اور ہیں۔اور میں آپ کو ان سے ملا دیتا ہوں ان کی یہ بات سن کر آپ کی جان میں جان آئی۔حافظ صاحب نے فرمایا۔آپ ایک رقعہ لکھ دیں۔میں حضور کی خدمت میں اندر بھجوا دیتا ہوں۔چنانچہ آپ نے رقعہ میں لکھا کہ میں طالب علم ہوں۔لاہور سے آیا ہوں۔زیارت چاہتا ہوں اور آج ہی واپس جانے کا ارادہ ہے حضور نے جواب میں کہلا بھیجا کہ مہمان خانہ میں ٹھہریں اور کھانا کھائیں۔ظہر کی نماز کے وقت ملاقات ہو گی۔اس وقت میں ایک کتاب لکھ رہا ہوں اور اس کا مضمون میرے ذہن میں ہے۔اگر میں اس وقت ملاقات کے لئے آیا تو وہ مضمون میرے ذہن سے اتر جائے گا۔اس واسطے آپ ظہر کی نماز تک انتظار کریں مگر اس جواب سے آپ کی تسلی نہ ہوئی اور آپ نے دوبارہ لکھا کہ ” میں تمام رات