لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 230 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 230

230 تھے۔ان کی باتیں سن کر آپ پر یہ اثر ہوا کہ یہ لوگ حنفیوں کی نسبت قال اللہ اور قال الرسول پر زیادہ عمل کرنے والے ہیں۔مگر ان کی مجلس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی ذکر ہوتا تھا اور وہ لوگ حضور کے دعوائے مسیحیت کے خلاف بہت کچھ کہا کرتے تھے۔اب آپ اس جستجو میں لگ گئے کہ اگر کوئی حضرت مرزا صاحب کا مرید ملے تو اس سے حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ کی نسبت حالات معلوم کئے جائیں۔چنانچہ ایک شخص ولی اللہ صاحب ابن بابا ہدایت اللہ مشہور پنجابی شاعر کوچه چابک سواراں کا آپ کو پتہ لگا۔آپ نے ان کے پاس جانا شروع کر دیا۔انہوں نے آپ کو استخارہ کرنے کے لئے توجہ دلائی۔چنانچہ آپ نے ان سے طریق استخارہ سیکھ کر استخارہ کیا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ دوسرے روز رات کے دو بجے ابھی میں استخارہ کی دعا پڑھ کر سویا ہی تھا کہ رویا میں مجھے کسی شخص نے کہا کہ آپ اٹھ کر دوزانو بیٹھیں کیونکہ آپ کے پاس حضرت رسول کریم تشریف لا رہے ہیں اور مجھے بھی زینے سے کسی شخص کے چڑھنے کی آواز آئی۔چنانچہ میں رویا ہی میں دوزانو بیٹھ گیا۔اتنے میں میں نے دیکھا ایک نہایت متبرک انسان سفید لباس میں آیا ہے اور اس نے ایک بازو سے حضرت مرزا صاحب کو پکڑ کر میرے سامنے لا کھڑا کر دیا اور فرمایا: هذا الرجل خليفة الله واسمعوا و اطيعوا پھر وہ واپس چلا گیا۔اور حضرت صاحب میرے پاس کھڑے ہو گئے اور اپنی ایک انگلی اپنی چھاتی پر مار کر کہا ایہو رب خلیفہ کیتا اس نوں مہدی جانو“ پھر ایک رباعی بھی پڑھی لیکن میں بھول گیا ہوں۔اس کا مطلب بھی یہی تھا کہ میں مسیح موعود ہوں۔پھر میں بیدار ہو گیا۔صبح میں سکول جانے کی بجائے قادیان روانہ ہو گیا “۔بٹالہ میں گاڑی شام کو پہنچی۔نماز مغرب کا وقت ہو رہا تھا۔اڈہ کے سامنے ایک چھوٹی سی مسجد تھی۔آپ اس میں نماز پڑھنے کے لئے تشریف لے گئے۔لوگوں نے پوچھا۔آپ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جانے کا ارادہ ہے۔آپ نے صاف صاف سب کچھ بیان کر دیا۔اس پر ان لوگوں نے حضرت اقدس کو بہت کچھ بُرا بھلا کہا اور آپ کو قادیان جانے سے روکا۔مگر آپ نے فرمایا کہ ” میں قادیان