لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 232
232 مصیبت سے یہاں پہنچا ہوں اور زیارت کا خواہشمند ہوں۔مجھے اسی وقت شرفِ زیارت سے سرفراز لیمجھے فرمائیں۔یہ رقعہ پہنچنے پر حضور نے مائی دادی کو کہا کہ ان کو مسجد مبارک میں بٹھاؤ۔میں ان کی ملاقات کے لئے آتا ہوں۔آپ کو وہاں کوئی پندرہ منٹ بیٹھنا پڑا۔اس کے بعد حضور نے مائی دادی کو کہا کہ ان کو اس طرف بلاؤ۔حضرت صاحب اپنے مکان سے گلی میں آگئے۔آپ بھی اس گلی میں پہنچ گئے۔آپ فرماتے ہیں: دور سے میری نظر جو حضرت صاحب پر پڑی تو رویا میں جو شخص مجھے دکھایا گیا تھا بعینہ وہی حلیہ تھا۔حضرت صاحب کے ہاتھ میں عصا بھی تھا۔پگڑی بھی تھی۔گویا تمام وہی حلیہ تھا۔جو میں پہلے رویا میں دیکھ چکا تھا۔میں حضرت صاحب کی طرف چل رہا تھا اور حضور میری طرف آ رہے تھے۔گول کمرہ سے ذرا آگے میری اور حضرت صاحب کی ملاقات ہوئی۔میں نے حضرت صاحب کو دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ خواب والے بزرگ ہی ہیں اور بچے ہیں۔چنانچہ میں حضور سے بغلگیر ہو گیا اور زار زار رونے لگا۔میں نہیں سمجھتا کہ وہ رونا مجھے کہاں سے آیا اور کیوں آیا۔مگر میں کئی منٹ تک روتا ہی رہا۔حضور مجھے فرماتے تھے۔صبر کریں۔صبر کریں۔جب میرا رونا ذرا تھم گیا اور ہوش قائم ہوئی تو حضور نے مجھے فرمایا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے عرض کیا۔حضور میں لاہور سے آیا ہوں۔فرمایا کیوں آئے ؟ عرض کیا حضور ! زیارت کے لئے۔فرمایا کوئی خاص کام ہے؟ میں نے عرض کیا کہ صرف زیارت ہی مقصد ہے حضور نے فرمایا۔بعض لوگ اپنے مقاصد کے لئے دعا کرانے آتے ہیں۔کیا آپ کو بھی کوئی ایسی ضرورت درپیش ہے؟ میں نے عرض کیا۔مجھے کوئی ایسی ضرورت در پیش نہیں۔تب حضور نے فرمایا کہ مبارک ہو۔اہل اللہ کے پاس بے غرض آنا بہت مفید ہوتا ہے۔اس کے بعد فرمایا کہ آپ حامد علی صاحب کے ساتھ مہمان خانہ جائیں۔ظہر کے وقت میں پھر ملاقات کروں گا۔“ آپ فرماتے ہیں: میں مہمان خانہ میں چلا گیا۔کھانا کھایا۔آرام کیا۔ظہر کی اذان ہوئی۔مجھے پہلے