لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 214 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 214

214 ہمارے خاندان کی چھٹی پشت سلسلہ میں داخل ہے۔حضور کے قیام سیالکوٹ کے دوران جہاں اور بہت سے احباب نے بیعت کی تھی وہاں محترم مولوی فیض الدین صاحب امام و متولی جامع مسجد کبوتراں والی بھی شرف بیعت سے مشرف ہو گئے جس کا فائدہ جماعت کو یہ پہنچا کہ یہ ایک عالم بھی مل گیا اور عظیم الشان مسجد بھی مل گئی۔میں جب فروری ۱۹۵۴ء میں ریٹائر ہو کر سیالکوٹ پہنچا تو ہائی کورٹ کے جج صاحبان یعنی جسٹس محمد منیر صاحب، جسٹس کیانی صاحب اور جسٹس محمد خورشید زمان صاحب نے مجھے دوبارہ ملازمت کی پیشکش کی مگر میں بوجہ خرابی صحت واپس نہ گیا۔قیام لاہور کے دوران جماعتی کاموں میں حصہ آپ نے جماعتی کاموں میں حصہ لینے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔۱۹۲۴ء میں جب مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ تعمیر ہو رہی تھی تو ان ایام میں میں نے خود بھی حسب توفیق حصہ لیا اور دوسرے احباب کو بھی تحریک کرنے کا ثواب حاصل کیا۔محترم قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے کا تقرر بحیثیت امیر جب حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی موجودگی میں کارکنان جماعت احمدیہ لاہور کا انتخاب ہوا تو اس انتخاب میں محترم قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے امیر جماعت محترم ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب جنرل سیکرٹری اور عاجز کا تقرر بطور سیکرٹری مال ہوا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے خاکسار کو اس وقت سے لے کر ۱۹۳۹ ء تک یہ کام کرنے کی توفیق ملی۔اس کے بعد خاکسار بطور نگران اس کام میں حصہ لیتا رہا۔مجلس عاملہ کا ممبر بھی ۱۹۵۸ء تک برابر رہا۔مجلس انصار اللہ لاہور کے قیام پر ۱۹۵۰ء تک بطور زعیم کام کرنے کا موقع ملا۔محترم جناب شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت کی ہدایات کے مطابق محترم ملک خدا بخش صاحب، میاں عبد الکریم صاحب مرحوم اور خاکسار شہر لاہور کے مختلف حلقوں کے تنظیمی تربیتی اور تبلیغی دورے کرتے تھے جس کا نتیجہ یہ تھا کہ جب بھی کسی چندہ کی تحریک ہوتی ، احباب اس پر لبیک کہتے ہوئے پورا پورا تعاون فرماتے تھے۔ایک دفعہ جب ہمیں مقامی اخراجات کے لئے وقت پیش آئی تو میں نے محترم جناب قاضی محمد اسلم صاحب اور محترم جناب چوہدری