لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 215 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 215

215 محمد ظفر اللہ خاں صاحب سے اس کا ذکر کیا۔باہمی گفت و شنید سے یہ فیصلہ ہوا کہ مجلس مشاورت کے موقعہ پر یہ تجویز سب کمیٹی مال میں زیر بحث لائی جائے اور کوشش کی جائے کہ مرکز باہر کی اہم جماعتوں کو مقامی اخراجات کے لئے کچھ رقم بطور گرانٹ دیا کرے۔چنانچہ ایسا کرنا مفید ثابت ہوا اور مرکز کی طرف سے گرانٹ ملنا شروع ہوگئی۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ محترم شیخ بشیر احمد صاحب کی امارت کے زمانہ میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز جب بھی لاہور میں تشریف لاتے تھے عموماً شیخ صاحب کے مکان پر ہی قیام فرمایا کرتے تھے ان ایام میں شیخ صاحب کا مکان مہمانوں سے بھر جایا کرتا تھا۔اور شہر کے مختلف حصوں سے نمازی بھی کثرت کے ساتھ حضور کی اقتداء میں نمازیں پڑھنے کیلئے آیا کرتے تھے۔۱۹۴۴ ء کے آغاز میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بسلسلہ علالت حضرت ام طاہر صاحبہ لاہور میں تشریف لائے اور تین چار ماہ کے قریب حضور نے شیخ صاحب کے مکان پر قیام فرمایا۔میں دفتر سے فارغ ہو کر شیخ صاحب کے مکان پر حاضر ہو جایا کرتا تھا۔محترم چوہدری اسد اللہ خاں صاحب حال امیر جماعت لاہور بھی باقاعدگی کے ساتھ تشریف لایا کرتے تھے۔اس موقع پر ہم دونوں نماز کے اوقات میں حضور کے دائیں بائیں کھڑے ہو کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔انہی ایام میں محترم شیخ صاحب کے مکان کی بالائی منزل پر حضور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصلح موعود ہونے کی بشارت ملی۔اس مقام پر حضور کے ہمراہ اصحاب مسیح موعود علیہ السلام کا فوٹو بھی شیخ صاحب کے مکان کی بالائی چھت پر لیا گیا۔اس فوٹو میں خاکسار اور خاکسار کے والد ماجد محترم میاں فیروز الدین صاحب بھی شامل ہوئے۔دو مصلح موعود کا جلسہ جب ہوشیار پور میں ہوا تو اس موقعہ پر بھی میں لاہور سے سو کے قریب دوستوں کو لیکر ہوشیار پور پہنچا۔وہاں جو ۳۵ افراد صحابہ میں سے حضور کے ساتھ اس مکان میں داخل ہوئے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چلہ کشی کی تھی۔ان میں میرے والد محترم بھی شامل تھے۔مصلح موعود کا جو جلسہ لاہور میں ہوا۔اس کا انتظام بھی محترم شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت