لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 213 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 213

213 بیعت میں شامل ہو جانا چاہئے۔چنانچہ ان کی اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے خاندان کے سب افراد نے فوراً بذریعہ چٹھی بیعت کر لی۔میرے والد محترم میاں فیروز الدین صاحب رضی اللہ عنہ مدفون بہشتی مقبرہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم جب پہلی مرتبہ ۱۸۹۶ء میں قادیان گئے تو حضور کی دستی بیعت سے بھی مشرف ہوئے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی چونکہ والد محترم کے ہموطن تھے اس لئے ان کے ساتھ بے تکلفی تھی۔فرمایا کرتے تھے کہ ہم حضرت مولوی صاحب موصوف کے ساتھ مسجد مبارک کے ساتھ ملحقہ کوٹھڑی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کا وہاں سے گذر ہوا۔ہم نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ صاحبزادہ صاحب کہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔آپ نے فرمایا۔جہاں اس کا باپ تعلیم حاصل کرتا ہے! جب حضور ۱۹۰۴ء میں سیالکوٹ تشریف لائے تو والد محترم گوجرانوالہ پیشوائی کے لئے تشریف لے گئے تھے۔مگر افسوس کہ ہمارے پر دادا صاحب حضور کی سیالکوٹ تشریف آوری سے چند ماہ قبل وفات پا چکے تھے۔حضور کی تشریف آواری پر ہمارے چا بابو عزیز الدین صاحب ، محترم با بو قاسم الدین صاحب امیر جماعت سیالکوٹ، بابو محمد حیات صاحب اور خاکسار کو اپنے ہمراہ اسٹیشن پر لے گئے تھے۔جب حضور فٹن پر سوار ہوئے تو ہم فٹن کے بالکل پیچھے پیچھے ہو لئے حتی کہ ہم گلی حکیم حسام الدین صاحب تک پہنچ گئے۔وہاں فٹن سے اتر کر حضور تو محترم حکیم صاحب کے مکان کے اندر تشریف لے گئے اور ہم اپنے گھر واپس آگئے۔ہمارا گھر چونکہ قریب ہی تھا اس لئے حضور ہمیں حکیم صاحب کے مکان پر چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔وہ لیکچر جو حضور نے سیالکوٹ میں دیا تھا وہ بھی حضور نے اسی مکان پر چلتے چلتے لکھا تھا۔ہم نے دیکھا کہ بعض اوقات حضور لکھتے لکھتے سجدہ میں بھی جا پڑتے تھے مگر اٹھ کر پھر لکھنا شروع کر دیتے تھے۔دو یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ ہمارے خاندان کی چار پشتوں کو حضور کی زیارت اور بیعت نصیب ہوئی۔یعنی ہمارے پردادا میاں نظام الدین صاحب دادا میاں گلاب الدین صاحب والد میاں فیروز الدین صاحب اور عاجز۔اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل۔ނ