لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 189 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 189

189 ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے: خواجہ جمال الدین صاحب بی۔اے جو ہماری جماعت میں داخل ہیں۔جب امتحان منصفی میں فیل ہوئے اور ان کو بہت ناکامی اور نا امیدی لاحق ہوئی اور سخت غم ہوا تو ان کی نسبت مجھے الہام ہوا کہ ”سَيُغْفَرُ ، یعنی اللہ تعالیٰ ان کے اس غم کا تدارک کرے گا۔چنانچہ اس کے مطابق وہ جلد ریاست کشمیر میں ایک ایسے عہدہ پر ترقی یاب ہوئے جو عہدہ منصفی سے ان کے لئے بہتر ہوا۔یعنی وہ تمام ریاست جموں وکشمیر کے انسپکٹر مدارس ہو گئے۔۲۵ نوٹ :۔ان کی بیعت کا صحیح سنہ معلوم نہیں ہو سکا۔اندازاً ان کے حالات یہاں درج کئے گئے ہیں۔(مؤلف) حضرت میاں محمد افضل صاحب رضی اللہ عنہ ولادت : بیعت : ۱۸۹۴ء میاں محمد افضل صاحب سکنه او جله ضلع گورداسپور حال مکان نمبر ے گلی نمبر ۵۷ نیا دھرم پورہ لاہور نے ۱۸۹۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔ان ایام میں گو آپ بچے ہی تھے اور پانچویں جماعت کے طالب علم تھے۔مگر چونکہ آپ کے تایا حضرت منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی پٹواری اور آپ کے حقیقی چچامنشی عبدالمجید صاحب بیعت کر چکے تھے اور ۳۱۳۔اصحاب میں شامل تھے اسی طرح آپ کے والد ماجد منشی عبدالحق صاحب پٹواری بھی بیعت کر چکے تھے۔اس لئے آپ کا بیعت لینا آسان تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ جن ایام میں کرم دین سکنہ بھیں کے ساتھ مقدمات چل رہے تھے۔ان ایام میں میری بیوی نے بھی بیعت کر لی تھی گو وہ ان ایام میں بہت کم عمر تھی مگر بڑی عورتوں کے ساتھ مل کر اس کے لئے بھی بیعت کرنا آسان تھا۔آپ فرماتے ہیں: ” جب میں نے سکول چھوڑا تو اس وقت سب سے پہلامنشی رسالہ تشخحید الاذہان کا میں ہی مقرر ہوا تھا اور میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھایا تھا“ آپ تقسیم ملک کے بعد لاہور میں آگئے۔نومبر ۱۹۶۵ء میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں