لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 188 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 188

188 صدر انجمن احمدیہ کے ممبر اور جماعت کے مشہور لیکچرار بھی تھے۔قد آور بھاری بھر کم بارعب اور وجیہ انسان تھے۔آپ کا ایک رؤیا بہت مشہور ہے۔جو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام میں دیکھا تھا۔آپ نے دیکھا کہ آپ اور آپ کے ہمراہ نو یا دس یا گیارہ افراد ہیں اور یہ سب کسی شاہی خاندان کے ہیں۔لیکن جس خاندان کے یہ ممبر ہیں اس کا سرتاج تخت سے الگ ہو گیا ہے اور نئی سلطنت قائم ہو گئی ہے۔اور پہلا دور بدل گیا ہے اور یہ سارے کے سارے اسیران سلطانی ٹھہرائے گئے ہیں۔رؤیا ہی میں آپ کو بتلایا گیا کہ نئے سلطان حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب ہیں اور اپنے دربار میں طلب فرما کر کہتے ہیں کہ ” کیا وجہ ہے کہ تمہارے ساتھ وہی سلوک نہ کیا جائے جو اسیران سلطانی کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔کیا وجہ ہے کہ تم کو ان وطنوں سے نکال کر دوسرے وطنوں میں آباد نہ کیا جاوے“ یہ رویا جو تفصیل کے ساتھ تاریخ احمدیت جلد چہارم میں بھی شائع ہو چکی ہے واضح طور پر بتا رہی ہے کہ جناب خواجہ صاحب اور آپ کے ساتھی خلافت اولی میں کچھ ایسے کام کریں گے جو خلاف منشاء سلطان ہوں گے اور ان کی بناء پر یہ لوگ اسیران سلطانی ٹھہرائے جائیں گے اور اس قابل ہوں گے کہ انہیں اصل وطن یعنی قادیان سے نکال کر کسی اور وطن ( جس کے متعلق بعد میں پتہ چلا کہ لاہور ہے۔ناقل ) میں آباد کر دیا جائے گا۔مگر اس وقت ان لوگوں کے معافی طلب کرنے پر حضور نے ان کو معاف کر دیا۔لیکن خلافت ثانیہ کی ابتداء میں یہ قادیان چھوڑ کر لاہور آ گئے اور اپنا الگ مرکز بنا لیا۔آپ نے ۲۷۔۲۸ دسمبر ۱۹۳۲ء کو لاہور میں وفات پائی۔فانالله و انا اليه راجعون۔۳۱۳۔اصحاب کی فہرست مندرجہ ” انجام آتھم میں آپ کا نام ۶۴ نمبر پر ہے۔حضرت خواجہ جمال الدین صاحب ولادت: بیعت : وفات: حضرت خواجہ جمال الدین صاحب بی۔اے ایک مدت تک جموں میں انسپکٹر مدارس رہے۔آپ جناب خواجہ کمال الدین صاحب کے بھائی تھے۔خلافت اولیٰ میں وفات پائی۔۳۱۳ اصحاب کی فہرست میں ان کا نام ۲۱۵ نمبر پر ہے۔