لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 190
190 دفن ہوۓ۔انا لله و انا اليه راجعون۔حضرت شیخ عطاء اللہ صاحب نومسلم ولادت : ۱۸۷۵ء بیعت : ۱۸۹۴ ء وفات : ۱۳۔اکتو برا ۱۹۵ء حضرت شیخ عطاء اللہ صاحب نو مسلم ولد لالہ گنپت رائے صاحب اسلامیہ پارک پونچھ روڈ مزنگ لا ہور نے بیان کیا کہ میں نے ۱۸۹۴ء میں حضور انور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت اور بیعت کی تھی۔اس زمانہ میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نماز پڑھایا کرتے تھے اور بعض اوقات اذان بھی دیتے تھے۔بہت خوش الحان اور بلند آواز تھے۔ان کی اذان سن کر انسان پر رقت طاری ہو جاتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت ام المومنین بھی بہت پسند فرماتے تھے۔حضور علیہ السلام شام سے لے کر عشاء تک مسجد مبارک میں قیام رکھتے تھے اور اسی جگہ سب احباب کے ہمراہ کھانا تناول فرماتے تھے۔ایک روٹی تو ڑ کر چھوٹا سا ٹکڑا اٹھا کر اپنے دست مبارک میں پکڑ لیتے اور آہستہ آہستہ کھاتے رہتے۔ہر جمعہ کو سب احباب کے لئے پلاؤ تیار ہوتا تھا۔حضور انور بھی تھوڑا سا تناول فرماتے تھے۔حضور مسکرا کر گفتگو کرتے اور ہمیشہ ہشاش بشاش رہتے تھے۔اوپر نظر اٹھا کر عموماً کسی کو نہ دیکھتے تھے مگر اس کے باوجود بصیرت الہی اتنی تھی کہ سب کو اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے۔میں کسی قدر حضور کے پاؤں بازو شانے اور جسم مبارک کو زور سے دباتا۔مگر حضورا نور ہر گز آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتے تھے کہ دبانے والا شخص کون ہے مگر کبھی صاف طور پر فرماتے کہ میاں عطاء اللہ چھوڑ دیں۔میں نے ہر گز حضور کو مغموم نہیں دیکھا۔مغرب کے وقت حضور ایک معمولی گلاس بکری کے کچے دودھ کا نوش جان فرمایا کرتے تھے۔جماعت میں سے ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور کچا دودھ نہ پیا کریں۔فرمایا اکثر انبیاء علیہم السلام کچا دودھ ہی پیا کرتے تھے۔کچھ عرصہ بعد جب میں محکمہ ٹیلی گراف میں ملازم تھا۔تپ دق سے بیمار ہو گیا۔دو ماہ رخصت حاصل کر کے قادیان چلا گیا۔حضرت مولانا حکیم صاحب کے دولت خانہ میں رہتا تھا۔کیونکہ انہوں نے مجھے جموں میں مشرف باسلام کیا تھا۔اس روحانی تعلق کی وجہ سے بڑی محبت کے ساتھ علاج کے لئے صبح سویرے پہلے کھچڑی چاولوں کی اور بعد کو معاً ایک انڈا ابلا ہوا کھلا کر دوائی دیتے تھے