لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 177 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 177

177 ہمارا دادا صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ حضور دعا فرما دیں کہ خدا مجھے اور بھی لڑکے عطا فرمائے۔چنانچہ حضور نے دعا کا وعدہ فرمایا اور جب دوبارہ لاہور میں تشریف لائے تو حضرت میاں چراغ دین صاحب کو یہ خوشخبری سنائی کہ خدا تعالیٰ آپ کو پانچ لڑکے اور دے گا اور آپ کی وفات تک آپ کے پانچ لڑکے زندہ رہیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ہمارے والد صاحب کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو مندرجہ ذیل لڑکے اور دیئے۔حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل۔میاں عبدالرحیم صاحب۔میاں عبدالمجید صاحب۔میاں عبدالرشید صاحب اور میاں محمد سعید صاحب سعدی۔میاں عبدالرحیم صاحب تو بچپن میں وفات پا گئے۔مگر باقی پانچ لڑکے حضرت میاں چراغ دین صاحب کی وفات تک زندہ تھے۔☆ میاں قا در بخش صاحب درویش بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد شاہ محمد غوث میں درویشانہ زندگی بسر کرتا تھا۔اور حضرت میاں چراغ دین صاحب کے پاس بھی جا کر بیٹھا کرتا تھا۔ایک مرتبہ جب مسجد شاہ محمد غوث سے میرے کپڑے چرائے گئے تو میں صرف پاجامہ پہن کر ہی حضرت میاں صاحب کے پاس چلا گیا۔فرمایا۔میاں قادر بخش کیا بات ہے! عرض کی۔میاں صاحب! میرے کپڑے کسی نے چرا لئے ہیں۔فرمایا۔تم وہاں کیوں جاتے ہو؟ عرض کی۔میاں جی ! وہاں روٹی مل جاتی ہے۔فرمایا۔کوئی کام کیوں نہیں کرتے ؟ عرض کی۔میں کوئی کام نہیں جانتا۔آپ نے اسی وقت اپنی جیب سے چھ روپے نکالے اور ایک ہندو کو رقعہ لکھا کہ اسے کھدر دے دو۔چنانچہ میں وہ کھدر لے کر میاں صاحب کی بیٹھک میں آ گیا۔وہ دو تھان تھے۔آپ ان میں سے ایک تھان لے کر او پر زنانخانہ میں گئے اور چھ روپے لے کر آئے۔آتے ہی فرمایا۔میاں قادر بخش! دیکھو تمہیں کتنا نفع ہوا۔تین روپے کا تھان چھ روپے میں بک گیا۔پھر آپ نے مجھے دو آنے کا گز بھی لے دیا۔اب میرا کاروبار چل پڑا۔میں وہ کھدر گاؤں میں لے جاتا اور وہاں سے لحاف لے آتا۔تھوڑے عرصہ کے اندر میرے پاس کافی روپے جمع ہو گئے اور اس قدر کام چلا کہ کھدر کا کوٹھا بھر جاتا تھا۔چنانچہ پانچ آدمی میں نے ملازم رکھ لئے جو کھدر بیچا کرتے تھے۔ایک مرتبہ آپ پنشن لینے گئے تو کسی شخص نے آپ کی جیب سے روپیہ نکال لیا۔قریشی محمد حسین یہ بیان میاں قادر بخش صاحب مرحوم نے اپنی زندگی میں مجھے لکھوایا۔(مؤلف)