لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 151 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 151

151 حضرت میاں فیروز الدین صاحب ولادت: بیعت : ۱۸۹۲ء کے بعد وفات: حضرت میاں فیروز الدین صاحب حضرت حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی کے خسر اور میاں محمد سلطان صاحب کے متمنی تھے۔آپ کی بیعت ۱۸۹۲ء کے بعد کی ہے۔آپ کا نام الانذار‘ میں درج ہے۔بہت مخلص صحابی تھے۔ان کا ذکر بعض صحابہ کی روایات میں بھی آتا ہے۔حضرت ڈپٹی میاں محمد شریف صاحب کا بیان ہے کہ میاں فیروز الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک تعاونی کمیٹی بنائی تھی۔اس سلسلہ میں ان کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ بنا۔ابتدائی عدالت میں سزا ہوئی۔مگر حضرت اقدس کی دعا سے اپیل کرنے پر بری قرار دیے گئے۔ریٹائر ہونے کے بعد متفرق کام کرتے رہے۔انگریزی اور فارسی زبانیں خوب جانتے تھے۔ان کے ایک لڑکے کا نام محمود دین تھا۔احمدی نہیں تھا۔میاں صاحب نے ۱۹۱۳ء کے کچھ عرصہ بعد وفات پائی۔حضرت ڈاکٹر شیخ عبداللہ صاحب نومسلم ( سابق دیوانچند ) ولادت: بیعت : وفات : ۴۔ستمبر ۱۹۵۳ء محترم جناب ڈاکٹر شیخ عبداللہ صاحب بہت پرانے احمد یوں میں سے تھے۔بڑے ہی مخلص اور فدائی احمدی تھے۔ابتداء میں آپ انجمن حمایت اسلام لاہور میں بطور کمپونڈ رملا زم تھے۔مگر پھر ہجرت کر کے قادیان چلے گئے۔اور ایک لمبا زمانہ نور ہسپتال میں کام کیا۔مدرسہ احمدیہ اور غالباً مدرسہ تعلیم الاسلام کے ہوٹلوں میں بھی سالہا سال تک طبی معائنہ کے لئے جاتے رہے۔خلافت ثانیہ میں ان کے ایک بچے نے شرارت کی۔مگر سزا برداشت کرنے سے انکار کیا۔جس پر محترم ڈاکٹر صاحب کو کہا گیا کہ اس کا خرچ بند کر دیں۔مگر وہ کسی وجہ سے ایسا نہ کر سکے۔جس کی بناء پر انہیں اخراج از جماعت کی سزا ملی۔محترم ڈاکٹر صاحب قادیان سے لائل پور تشریف لے گئے۔اور اپنا تعلق انجمن اشاعت اسلام کے ساتھ قائم کر لیا۔مگر حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا نام ہمیشہ ادب و احترام کے ساتھ لیا کرتے۔ایک عرصہ بعد دو مرتبہ قادیان جا کر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ