لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 152 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 152

152 سے ملاقات بھی کی۔سنا گیا ہے کہ حضور بہت ہی محبت سے پیش آئے۔بلکہ جب خاکسار لائل پور میں بحیثیت مبلغ متعین تھا تو مجھے اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو خلیفہ برحق سمجھتے ہیں۔ایک مرتبہ میں نے ان کی خدمت میں عرض کی ڈاکٹر صاحب! اگر آپ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو خلیفہ برحق مانتے ہیں تو نماز جمعہ لاہوری فریق کی مسجد میں جا کر کیوں پڑھتے ہیں؟ اس پر فرمایا کہ جماعت کے اکثر احباب کو چونکہ اس بات کا علم ہے کہ مجھے نظام سلسلہ کی طرف سے سزا ملی ہوئی ہے۔اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ جمعہ کے روز مسجد میں داخل ہوتے ہی بیسیوں احمدیوں کی انگلیاں میری طرف اٹھیں گی۔اس پر گو میں نے انہیں تسلی دلائی تھی کہ جماعت کے احباب انگشت نمائی نہیں کریں گے بلکہ خوش ہوں گے۔مگر وہ جرأت نہ کر سکے۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر صاحب جب بھی ملتے تھے۔سب سے پہلے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خیریت دریافت کرتے تھے۔محترم ڈاکٹر صاحب کے بڑے صاحبزادے کا نام عبدالرحیم تھا۔وہ بھی ڈاکٹر تھے۔چند سال انہوں نے فوج میں ملازمت کی اور پھر طارق آباد لائل پور میں ڈسپنسری کھول لی۔ان کا بھی گو بظاہر جماعت کے ساتھ تعلق نہیں تھا۔مگر دل سے وہ بھی جماعت کے ساتھ تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ساتھ ہمیشہ ان کی خط و کتابت رہتی تھی۔ربوہ میں بھی آمد ورفت رکھتے تھے بلکہ ان کے ایک بچے نے جب میٹرک کا امتحان پاس کیا تو اسے تعلیم الاسلام کا لج ربوہ میں داخل کیا۔میں نے جب ”حیاۃ طیبہ لکھی تو مجھے خط لکھا کہ دو کتابیں مجھے وی۔پی کر دیں۔میں نے انہیں جواب میں لکھا۔کہ میں عنقریب لائل پور آ رہا ہوں۔کتابیں انشاء اللہ ساتھ لیتا آؤں گا۔چنانچہ جب میں ان کی ڈسپنسری پر پہنچا تو بڑی ہی محبت سے پیش آئے اور دونوں کتابیں فوراً خرید لیں۔اس موقعہ پر جب میں نے انہیں مرکز کے ساتھ وابستگی کے لئے کہا تو فرمانے لگے کہ شیخ صاحب! میں تو الگ ہوا ہی نہیں۔صرف کمزور ہوں۔میں نے تو اپنے بچے کو بھی تعلیم الاسلام کا لج ربوہ میں داخل کیا تھا مگر اس کی والدہ روز ربوہ کو چل پڑتی تھی۔اسے بچے کے بغیر قرار ہی نہیں تھا۔اس لئے مجبوراً چند ماہ کے بعد مجھے اسے واپس بلانا پڑا۔افسوس کہ دو تین سال ہوئے۔کیپٹین ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب بیمار ہوئے۔میو ہسپتال لاہور میں علاج ہوتا رہا مگر جانبر نہ ہو سکے۔انا لله و انا اليه راجعون۔