لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 109
109 حضرت سید ناصر شاہ صاحب ولادت: ۱۸۶۳ ء بیعت : ۱۸۹۱اء وفات: یکم و۲۔جنوری ۱۹۳۶ء کی درمیانی رات حضرت سید ناصر شاہ صاحب کو خاکسار راقم الحروف نے قادیان میں خوب دیکھا ہے۔باتیں بھی جی بھر کر کرنے کا متعدد بار موقعہ ملا۔ذکر حبیب“ کی تقریر بھی سنی۔آپ ایک نہایت ہی وجیہ قد آور اور بزرگ انسان تھے۔لاہور کے رہنے والے تھے۔زیادہ عرصہ ریاست جموں وکشمیر میں ملازم رہے۔آپ کے بھائی حضرت سید فضل شاہ صاحب بھی ریاست جموں وکشمیر میں ملازمت کرتے رہے۔خدمت دین کا اس قدر جذ بہ تھا کہ ہر وقت موقعہ کی تاڑ میں رہتے تھے۔ایک مرتبہ آپ کو عالم رویا میں دکھایا گیا کہ حضرت اقدس کو آپ کی ضرورت ہے۔رخصت لے کر قادیان پہنچے۔پتہ چلا کہ حضور کو اپنی کتاب " نزول امیج کی طباعت کیلئے روپیہ کی ضرورت ہے۔چنانچہ آپ نے اسی وقت ڈیڑھ ہزار روپے کی رقم جو حج بیت اللہ کے لئے جمع کر رکھی تھی حضور کی خدمت میں پیش کر دی۔نیز وعدہ کیا کہ طباعت کے بقیہ اخراجات کشمیر جا کر ارسال کر دیں گے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی تحفہ بھی ضرور لایا کرتے تھے۔حضور علیہ السلام کو بھی آپ سے بڑی محبت تھی۔چنانچہ ایک مرتبہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ نے آپ کی گردن میں ہاتھ ڈال کر فرمایا: وو شاہ صاحب ! حضرت صاحب جس طرح آپ کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔اسے دیکھ کر خدا کی قسم ہمیں تو رشک آتا ہے۔“ ریٹائر ہونے کے بعد موجودہ قصر خلافت (قادیان) کے سامنے آپ اپنے مکان میں رہتے تھے۔یکم جنوری ۱۹۳۶ ء کو آپ نے انتقال فرمایا " فانا لله و انا اليه راجعون۔حضرت منشی تاج الدین صاحب ولادت: بیعت : ۱۸۹۲ء سے قبل وفات: حضرت منشی تاج الدین صاحب اکو نٹنٹ دفتر ریلوے لاہورا بتدائی صحابہ میں سے تھے۔محلہ کوٹھی