لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 108 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 108

108 سید عنایت اللہ شاہ صاحب کے والد محترم تھے۔خلافت ثانیہ میں یکم فروری ۱۹۲۴ء کو فوت ہوئے اور بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں۔۳۱۳ اصحاب کی فہرست مندرجہ " انجام آتھم میں ان کا نام ۲۳۹ نمبر پر ہے۔جنوری ۱۹۰۰ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچا زاد بھائی مرزا امام الدین صاحب نے حضور کے گھر کے آگے ایک دیوارا ایسے طور پر کھینچ دی تھی کہ اس سے مسجد مبارک میں آنے جانے کا رستہ رک گیا تھا۔یہ ایام جماعت کے لئے بہت ابتلاء کے تھے اور حضور بھی بہت تشویش میں تھے کہ ایک روز جو طبیعت دعا کی طرف راغب ہوئی تو بعد دعا حضور کو ایک سلسلہ الہام ہوا جو حقیقۃ الوحی میں درج ہے۔اس الہام کی کیفیت بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں : " ” مجھے یاد ہے کہ اس وقت سید فضل شاہ صاحب لاہوری برادرسید ناصر شاہ صاحب اوورسیئر متعین بارہ مولا کشمیر میرے پیر دبار ہا تھا اور دوپہر کا وقت تھا کہ یہ سلسلہ الہام دیوار کے مقدمہ کی نسبت شروع ہوا۔” میں نے سید صاحب کو کہا کہ یہ دیوار کے مقدمہ کی نسبت الہام ہے۔آپ جیسا جیسا یہ الہام ہوتا جائے، لکھتے جائیں۔چنانچہ انہوں نے قلم و دوات اور کاغذ لے لیا۔پس ایسا ہوا کہ ہر یک دفعہ غنودگی کی حالت طاری ہو کر ایک ایک فقرہ وحی الہی کا جیسا کہ سنت اللہ ہے زبان پر نازل ہوتا تھا۔پھر جب ایک فقرہ ختم ہو جا تا تھا اور لکھا جاتا تھا تو پھر غنودگی آتی تھی اور دوسرا فقرہ وحی الہی کا زبان پر جاری ہو جاتا تھا یہاں تک کہ کل وحی الہی نازل ہو کر سید فضل شاہ صاحب لاہوری کی قلم سے لکھی گئی ، ملے اس وحی کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں : الرَّحَى تَدُورُ وَيَنْزِلُ الْقَضَاءُ إِنَّ فَضْلَ الله لا۔۔۔لات “ کے نیچے حاشیہ میں لکھا ہے: عجیب بات ہے کہ اس الہام میں بشارت فضل کے لفظ سے شروع ہوتی ہے اور جس کے ہاتھ سے بر وقت نزول یہ وحی قلمبند کرائی گئی اس کا نام بھی فضل ہے، اے آپ کی اہلیہ سکینہ بی بی صاحبہ بھی صحابیہ تھیں جن کی ولادت ۱۸۷۹ء میں ہوئی۔بیعت ۱۸۹۸ء میں کی اور وفات ۱۶۔جنوری ۱۹۶۱ء کو ہوئی۔