لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 110 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 110

110 داراں لاہور میں ان کی رہائش تھی۔بہت وجیہ اور سلسلہ کے فدائی اصحاب میں سے تھے۔جب بھی موقعہ ملتا فوراً قادیان پہنچ جاتے۔۱۸۹۲ء کے جلسہ سالانہ میں بھی آپ شامل ہوئے تھے۔آئینہ کمالات اسلام میں آپ کا نام جلسہ میں شامل ہونے والوں میں درج ہے۔سلسلہ کی خدمات کا بھی آپ کو بہت موقعہ ملا۔چنانچہ جو وفد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابتداءً چولہ حضرت بابا نانک رحمتہ اللہ علیہ کی تحقیقات کیلئے ڈیرہ بابا نانک بھیجا تھا' اس کے ممبر آپ بھی تھے۔آپ کی بیٹھک سنہری مسجد کی سیڑھیوں کے سامنے تھی۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ بھی بعض اوقات آپ کی بیٹھک میں ٹھہرا کرتے تھے۔اولاد: سردارمحمد۔مظفر الدین ( جو پشاور کی جماعت کے امیر بھی رہے ) حضرت میاں عبد العزیز صاحب المعروف مغل ولادت : ۱۸۷۶ء بیعت: جنوری ۱۸۹۲ء وفات : یکم مارچ ۱۹۳۲ء عمر : انداز ۶۸۴ سال آپ حضرت میاں چراغ الدین صاحب رئیس لاہور کے فرزند تھے۔مگر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت اپنے والد ماجد سے پہلے کی۔فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے خاندان میں حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب کی تربیت کے نتیجہ میں سب سے پہلے حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور ان کے ایک ہفتہ بعد میں نے قادیان جا کر بیعت کی۔ابھی آپ سیکنڈ مڈل ہی میں پڑھتے تھے کہ تذکرۃ الاولیاء “ آپ کے مطالعہ میں آئی۔اولیاء اللہ کا حال پڑھ کر دل چاہا کہ ان بزرگوں جیسا آج بھی کوئی مل جائے تو آپ اس کی بیعت کر لیں۔بلکہ آپ کی بڑی خواہش یہ تھی کہ اگر آنجناب سرور کائنات ﷺ کی خواب میں زیارت ہو جائے تو حضور کی بیعت سے مشرف ہو کر صحابہ کرام میں داخل ہو جا ئیں۔فرمایا کرتے تھے کہ ایک دن جب کہ آپ ایچی سن سکول میں پڑھ رہے تھے۔ایک استاد نے پیسہ اخبار سے یہ خبر پڑھ کر سنائی کہ قادیان میں ایک شخص نے مہدی ومسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔یہ خبر آپ کے دل میں شیخ کی طرح گڑ گئی اور پختہ ارادہ کر لیا کہ جب بھی سکول میں کچھ رخصتیں ہوئیں آپ فوراً قادیان پہنچ کر حضور علیہ السلام کی بیعت کا شرف حاصل کریں گے۔چنانچہ بڑے دن کی رخصتوں پر