لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 105
105 الدین صاحب کے چازاد بھائی تھے۔آپ نے اس مشہور خاندان میں سے جو میاں فیملی کے نام سے مشہور ہے۔سب سے پہلے بیعت کی۔آپ ایک نہایت ہی مخلص اور سلسلہ کے شیدائی احمدی تھے۔جماعت کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار رہتے تھے۔انگریزی قانون سے بھی خوب واقف تھے۔بلکہ اپنے خاندان کی طرف سے یا اس کے خلاف جو مقدمات ہوتے تھے خصوصاً جائیداد سے متعلق۔ان میں آپ ہی خاندان کی طرف سے پیروی کیا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ جب مباہلہ والوں نے حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اور حضور کے خاندان پر گندے الزامات لگائے تھے تو اس سلسلہ میں مقدمہ کی پیروی کے لئے محترم جناب مولوی فضل الدین صاحب وکیل کے ساتھ آپ کو بھی پیروی کے لئے بٹالہ بھیجا گیا تھا۔محترم ملک محمد عبد اللہ صاحب فاضل اور خاکسار راقم الحروف بھی ان دونوں بزرگوں کے ہمراہ تھے۔ہماری طرف سے بحث لاہور کے مشہور وکیل جناب ملک برکت علی صاحب مرحوم نے کی تھی۔جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے۔آپ صاحب قلم بھی تھے۔آپ نے یکم تمبر ۶ کو تقویم عمری کے نام سے ایک جنتری بھی شائع کی تھی جو ۱۷۸۳ء سے لیکر ۱۹۰۷ ء تک ۱۲۵ برس پر مشتمل ہے۔اسی طرح ایک مشہور کتاب آپ نے صداقت مریمیہ “ کے نام سے بھی لکھی تھی۔مارچ ۱۹۱۳ء میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے ایک حواری کی کتاب ”دی کروسی فکشن بائی این آئی وٹنس کا ترجمہ ” واقعات صلیب کی چشم دید شہادت کے نام سے شائع کیا تھا۔آپ بھاری بھر کم جسم کے وجیہ انسان تھے۔آپ کا لباس عموماً سلوار قمیض ، کوٹ اور عمامہ ہوا کرتا تھا۔بہت ملنسار اور خوش گفتار انسان تھے۔۱۹۳۹ء میں اور صحابہ کے حالات کی طرح ان کے حالات بھی میں نے لاہور میں پہنچ کر تحریر کئے تھے۔مگر عدیم الفرصت ہونے کی وجہ سے انہوں نے بہت کم حالات لکھوائے تھے۔الحکم پر چہ ۱۴۔اگست ۱۹۳۵ء میں آپ کی چندر وایات درج ہیں۔انہیں بھی ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔فرمایا : (۱) حضور ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ناقل ) کی پیدائش اس مکان میں ہوئی جو مرزا سلطان احمد صاحب کا مکان ہے۔میں نے اس کمرہ کو دیکھا ہے۔